مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 31

۳۱ مذہب کے نام پرخون اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے مخالفین کی طرف سے مذہب کو بزور تبدیل کرانے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ تلوار اٹھائی گئی مگر ہر بار خائب و خاسر رہی۔وہ ہاتھ شل ہو گئے اور وہ تلوار میں ٹوٹ گئیں اور مذہب ان کے سائے تلے بے خوف پھیلتا اور پھولتا اور پھلتا رہا۔پھر ان سب نبیوں کے سردار کے کب شایاں تھا کہ اس معصوم گروہ کے کامیاب طریقہ تبلیغ کو چھوڑ کر نا کام ظالموں کا وطیرہ اختیار کرتے نہیں۔ایسا مت کہو کہ یہ میرے آقا پر توڑے جانے والے سب فلموں سے زیادہ ظلم ہے اور ایسا صریح ظلم ہے کہ غیر بھی بے اختیار پکار اٹھے کہ نہیں ایسا نہیں ہوا۔چنانچہ موسیو اوجین کلوفل نے آپ سے متعلق لکھا:۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) نے تمام دنیا کو فتح کرنا اور اسلام کا بول بالا کرنا چاہا مگر غیر مذاہب والوں پر کسی قسم کا جبر وستم کرنا روا نہیں رکھا۔ان کو مذہب اور رائے کی آزادی عطا کی اور ان کے تمدنی حقوق قائم رکھے لے “ مسٹر گاندھی کو بھی جن کی فراست بڑی گہری تھی مزید تحقیق کے بعد آخر اپنی اس رائے کو تبدیل کرنا پڑا جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اپنے اخبار ” ینگ انڈیا کی ایک اشاعت میں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ :۔میں جوں جوں اس حیرت انگیز مذہب کا مطالعہ کرتا ہوں حقیقت مجھ پر آشکارا 66 ہوتی جاتی ہے کہ اسلام کی شوکت تلوار پر مبنی نہیں۔“ اور ڈاکٹر ڈی۔ڈبلیو۔لائٹز نے بھی خود قرآن ہی سے اس الزام کی تردید میں ایک مضہ استدلال کرتے ہوئے لکھا:۔فی الواقع ان لوگوں کی تمام دلیلیں گر جاتی ہیں جو محض اس بات پر قائم ہیں کہ جہاد کا مقصد تلوار کے ذریعے سے اسلام کا پھیلا نا تھا کیونکہ بخلاف اس کے سورہ حج میں صاف لکھا ہے کہ ”جہاد کا مدعا مسجدوں اور گر جاؤں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں اور زاہدوں اور عابدوں (تپشیر وں ) کی خانقاہوں ( تپسیا شالاؤں) کو بربادی سے محفوظ رکھنا ہے۔“ لے اسلام اور علمائے فرنگ صفحہ ۹ بحوالہ برگزیدہ رسول غیروں میں مقبول صفحہ ۱۱ ۲؎ ایشیا تک کوارٹر لی ریویوا کتوبر ۱۸۸۶ء