مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 32

مذہب کے نام پرخون پس تلوار کے زور سے اسلام پھیلانے کا الزام لگانے والوں سے میں خو د قرآن ہی کے الفاظ میں پوچھتا ہوں "أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا (محمد:۲۵) کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ یا دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں!“ مگر مولانا کو کون سمجھائے کہ وہ اس دعویٰ پر مصر ہیں اور ببانگ دہل مصر ہیں اور فنڈ ر اور سیل اور ہنری کو پی اور سمتھ اور ڈوزی اور سپر نگر کی ہمنوائی میں مصر ہیں اس اعلان پر کہ:۔یہی پالیسی تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے عمل کیا۔عرب جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی سب سے پہلے اسی کو اسلامی حکومت کا زیر نگیں کیا گیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول اور مسلک کی طرف دعوت دی مگر اس کا انتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا۔آنحضرت کے بعد حضرت ابو بکر پارٹی کے لیڈر ہوئے تو انہوں نے روم اور ایران دونوں کی غیر اسلامی حکومتوں پر حملہ کیا اور حضرت عمر نے اس حملہ کو کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچادیالے “ 66 اگر یہ تحریر کسی اشترا کی تاریخ نویس کی ہوتی اور یہ پالیسی مارکس یالین یا سٹالن کی طرف منسوب کی جاتی اور مسلم پارٹی کی جگہ ” کمیونسٹ پارٹی کے الفاظ ہوتے تو مجھے کچھ تعجب نہ ہوتا اور میں بغیر کسی قلبی ہیجان کے اس عبارت کو پڑھ کر آگے گزر جا تا اور خیال بھی نہ کرتا کہ یہ کسی نے کیا لکھا ہے کاش ایسا ہی ہوتا مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔اور یہ ایک مسلم راہنما کی تحریر ہے جو واشگاف الفاظ میں اس مقدس ذات پر یہ اتہام لگا رہا ہے جس کی غلامی کا دعویٰ کرتا ہے۔یہ مولانا مودودی کی تحریر ہے الفاظ واضح اور غیر مہم ہیں۔الزام سخت گھناؤنا اور بھونڈا ہے اور صرف ایک الزام نہیں بلکہ الزام پر الزام لگایا گیا ہے۔اس تحریر کا پڑھنا بھی مجھ پر سخت گراں ہے اور اس کا لکھنا بھی۔اور نا قابل بیان اذیت پہنچتی ہے جب اس فقرہ پر نظر پڑتی ہے حقیقت جہاد صفحه ۶۵