مذہب کے نام پر خون — Page 282
۲۸۲ مذہب کے نام پرخون مذہب کے نام پر اور کبھی کسی اور نام پر اپنی اپنی مطلب براری کے لئے دلوں میں پہنچنے والی نفرت سے فائدہ اٹھایا کرتے ہیں۔اگر خمینی نے اسلام کے نام پر اس نفرت سے اپنی مطلب براری کے لئے فائدہ نہ اٹھایا ہوتا تو یقیناً ایران کا کوئی کمیونسٹ لیڈر آگے آکر سماجی انصاف کے نام پر اس سے فائدہ اٹھا لیتا اور وہاں کمیونسٹ انقلاب برپا کر دکھاتا۔الغرض برپا ہونے والے انقلاب کو مذہبی یا غیر مذہبی جو نام بھی دیا جاتا اس کے پس پردہ کارفرما عوامل ایک ہی ہوتے ان میں سر موکوئی فرق نہ آتا۔یہ تو ان عوامل کے بروئے کار آنے پر صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے والے پر منحصر ہوتا کہ وہ کس مذہبی یا غیر مذہبی نام پر انقلاب بر پا کرتا ہے۔میں نے ان لوگوں کو جو مینی کی خود اپنے ہی لوگوں کے خلاف زیادتیوں اور دوسرے ملکوں میں کی جانے والی انتقامی کاروائیوں کو اسلامی قرار دیتے ہیں، بارہا تو جہ دلائی ہے کہ اسلام کا بحیثیت مذہب ایرانی بے اطمینانی کے انتقامی مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اہلِ مغرب کو تو ایک لحاظ سے آیت اللہ خمینی کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے اپنا محسن سمجھنا چاہیے کیونکہ صورتِ حال ایسی بن چکی تھی کہ اگر آیت اللہ خمینی نے اس صورتِ حال سے مطلب براری کے رنگ میں فائدہ نہ اٹھایا ہوتا اور اپنے حامی ملاؤں کے گروہ کو ملک پر مسلط کرنے کے لئے اسے اسلامی رنگ نہ دیا ہوتا تو لازماً بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے ایرانی لیڈر صورت حال سے فائدہ اٹھا کر کمیونسٹ انقلاب بر پا کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔وہی ایران جو آج ہمیں سرخی مائل سبز نظر آتا ہے پھر وہ ہمیں تمام تر سرخ نظر آ رہا ہوتا۔یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ایران کی کمیونسٹ قیادت جسے ڈاکٹر مصدق نے پروان چڑھایا تھا شاہ کی معزولی کے وقت اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ ایرانی تاریخ کے اس موڑ پر کوئی مؤثر اور انقلابی کردار ادا کرنا اس کے لئے ممکن نہ تھا۔حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹ لیڈر شپ اس وقت بھی بڑی منظم اور تربیت یافتہ تھی اور وہ موقع سے فائدہ اُٹھانے کے لئے پر تول رہی تھی۔اگر آیت اللہ خمینی موقع سے فائدہ اٹھانے میں سبقت نہ لے جاتے تو انجام کا را ایران میں کٹر مارکسسٹ حکومت قائم ہوئے بغیر نہ رہتی۔ایسی صورتِ حال مشرق وسطی پر تباہ کن اثرات مرتب کرنے کا موجب بنتی کیونکہ یہ پورا خطہ تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود فوجی لحاظ سے بہت کمزور ہے۔اس لحاظ سے ثمینی انداز کا