مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 281

۲۸۱ مذہب کے نام پرخون ی تھی بلکہ بعد ازاں ان کے انگریزوں کے ساتھ تعلقات اس سے بھی زیادہ ناہمواری اور اس کے برے اثرات سے دو چار رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی فوجوں کے ہاتھوں ایرانیوں کو انتہائی بھیانک قسم کے جبر و تشدد سے دو چار ہونا پڑا۔جہاں تک عربوں کے ساتھ مخاصمت کا تعلق ہے اس میں مشترکہ ثقافت اور مشتر کہ مذہبی رشتہ مسلسل صحت مندانہ اثر ڈال کر تلافی اور اندمال کی راہیں استوار کر دیا کرتا تھا۔برخلاف اس کے برطانوی تسلط کے زمانہ میں انگریز حاکموں اور ایرانی محکوموں کے درمیان اختلاف اور بغض و عناد کی خلیج تنگ ہونے کی بجائے وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔دونوں کے درمیان کوئی ایسی معاشرتی ، ثقافتی یا مذہبی یکسانیت بھی نہ تھی جو دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں پل کا کام دے سکتی۔برطانوی تسلط کے زوال پذیر ہونے کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس میں بڑی طاقتوں نے اپنے پھوؤں اور کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعہ تیسری دنیا کے ملکوں پر بالواسطہ اپنا تسلط جمانے اور انہیں اپنے قابو میں رکھنے کی طرح ڈالی۔اس طرح ایک نئے رنگ کی سامراجیت معرض وجود میں آئی۔نئی سامراجیت کے اس دور میں ایران، برطانیہ کی سر پرستی اور تسلط میں تو نہ رہا لیکن چار و ناچار وہ چلا گیا امریکہ کی سر پرستی اور تسلط میں۔اس کے نتیجہ میں جس نئے دور کا آغاز ہوا اس میں شاہ ایران امریکی سامراج کے ایک مہرے اور نشان کے طور پر منظر عام پر آیا۔اس نئی سامراجیت کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ بیک وقت باہم متضاد نظریات کی حمایت کر کے اور ان میں عمداً ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کر کے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے میں لگی رہتی تھی۔آج بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔چنانچہ پولینڈ ، نکاراگوائے، اسرائیل اور جنوبی افریقہ کی مثالیں اس پر شاہد ناطق ہیں۔نفرت و حقارت کا وہ جذبہ جو ثمینی کے لائے ہوئے انقلاب سے یکدم بھڑک اٹھا تھا وہ صرف امریکی ظلم و تشدد ہی کی پیدا وار نہ تھا بلکہ وہ تیل اور گیس کے زیر زمین پوشیدہ خزائن کی طرح صدیوں سے دلوں کی گہرائیوں میں اکٹھا ہو رہا تھا۔یہ بات خاص طور پر سمجھنے اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یکدم بھڑک اٹھنے والا نفرت و حقارت کا یہ جذبہ اپنی اصل کے لحاظ سے ہرگز بھی مذہبی نہ تھا اور نہ مذہب نفرت و حقارت کو پھیلانے کا موجب ہوا کرتا ہے۔یہ مفاد پرست لوگ ہی ہوا کرتے ہیں جو کبھی