مذہب کے نام پر خون — Page 249
۲۴۹ مذہب کے نام پرخون کرے۔خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔آپ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر کسی کافر کے ورثاء اس کی نعش پر روتے پیٹتے ہیں تو ان کے اس فعل سے اس کی سزا میں اضافہ ہو جاتا ہے نیز حضرت عائشہ نے دلیل کے طور پر یہ بھی کہا کہ قرآن کا یہ فرمان ہمارے لئے کافی ہے کہ ” کوئی بوجھ اٹھانے والی ہستی دوسری ہستی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔“ اگر حضرت عمرؓ کے مرتبہ اور مقام کا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے (ایسا خواہ شاذ کے طور پر ہی ہوا ہو ) تو حضرت ابن عباس کی روایت کا مطلب سمجھنے میں معمولی راویوں سے غلطی سرزد ہونے کا امکان کس قدر زیادہ ہوسکتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو آگے پہنچانے میں غلطی کے ایسے وسیع امکانات کی موجودگی میں ایک سمجھدار انسان صرف اس ایک حدیث کی شہادت پر کیسے انحصار کر سکتا ہے اور اس سے زندگی اور موت کے معاملات اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق دور رس اہمیت کے حامل نتائج کیسے اخذ کر سکتا ہے۔مزید برآں یہ بھی احتمال ہے کہ عکرمہ نے یہ حدیث خود گھڑی ہو اور منسوب اسے حضرت ابن عباس کی طرف کر دیا ہو جیسا کی علی بن ابن عباس کے بیان کے مطابق ایسا کرنا اس کا عام وطیرہ تھا۔داخلی جانچ پڑتال کے مختلف پہلو جب ہم زیر غور حدیث کے نفس مضمون کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے مندرجات کا کئی لحاظ سے غلط ثابت ہونا اظہر من الشمس ہوئے بغیر نہیں رہتا۔اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :- (۱) حضرت علی" جیسے عظیم المرتبت انسان کے متعلق یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ اسلام نے کسی بھی انسان کو سزا کے طور پر آگ کا عذاب دینے سے واضح طور پر منع کیا ہے۔(ب) جو کوئی بھی اپنا دین بدل لے“ کے الفاظ اس درجہ کی عمومیت کے حامل ہیں کہ انہیں ایک نہیں کئی توضیحات کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے اور ان کا اطلاق مردوں،عورتوں ، اور بچوں