مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 250

۲۵۰ مذہب کے نام پرخون سب پر ہوسکتا ہے جبکہ امام ابوحنیفہ اور فقہ کے بعض دوسرے مکاتیب کے نزدیک ایک مرتد عورت کو کسی حال میں بھی قتل نہیں کیا جا سکتا۔(ج) اس حدیث میں عربی کا لفظ ”دین“ استعمال کیا گیا ہے۔یہ ایک عمومیت کا حامل لفظ ہے جس سے مراد کوئی بھی مذہب ہو سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ اس سے مراد صرف اسلام ہی ہو۔خود قرآن میں مشرکوں کے مذہب کو دین قرار دیا گیا ہے۔(حوالہ کے لئے دیکھیں سورۃ الکافرون)۔اس حدیث میں عمومیت کی حامل جو زبان استعمال کی گئی ہے اس کی روشنی میں اس حدیث کے اطلاق کو صرف ایک ایسے مسلمان تک کیسے محدود کیا جاسکتا ہے جو اپنا مذہب ترک کرنے کا اعلان کردے؟ ٹھیٹھ قانونی اصطلاحات کی روشنی میں اس حدیث کے مطابق تو جو شخص بھی اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پیرو ہو اسے موت کے گھاٹ اتارنا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک یہودی اگر عیسائی ہو جاتا ہے تو اسے قتل کرنا ہو گا، اسی طرح جو عیسائی مسلمان ہو جاتا ہے اسے بھی قتل کرنا ہوگا اور اس لا مذہب ملحد کو بھی قتل کرنا ہو گا جو اپنا آبائی مسلک ترک کر بیٹھے اور اس کی بجائے کوئی اور مذہب اختیار کر لے۔اسی پر بس نہیں بلکہ جو کوئی شخص بھی مسلم مملکتوں کی جغرافیائی حدود کے پرے کسی اور علاقہ میں یعنی کہیں بھی اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے اس پر بھی اس حدیث کا اطلاق ہوگا۔خواہ وہ آسٹریلیا کا قدیمی باشندہ ہو یا قدیمی افریقن نسل کا کوئی پست قامت انسان یا جنوبی امریکہ کا کوئی ریڈ انڈین ہو وہ جو نہی اپنا مذہب ترک کر کے کوئی نیا مذ ہب اختیار کرے اس کو اسی لمحہ قتل کر کے موت کے گھاٹ اتارنا ہوگا۔اسلام تبلیغ واشاعت پر بے انتہاء زور دیتا ہے حتی کہ ہر مسلمان کا یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے کر مجاہد فی سبیل اللہ بنے۔اب یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ آجکل کے بہت سے نامور مسلم علماء تنگ نظری پر مبنی قتل مرتد کے عقیدے سے چمٹ کر اسلامی جہاد کی روح یعنی تبلیغی جہاد کی نفی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ان علماء کے نزدیک اسلام کہتا ہے کہ جوشخص بھی اپنا مذ ہب تبدیل کرتا ہے (اور یہاں مذہب سے ان کی مراد اسلام ہے ) اسے فوری طور پر قتل کر دیا جائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُن لوگوں کے متعلق کیا حکم ہے جو دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہیں اور