مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 248

۲۴۸ مذہب کے نام پرخون رض ابن عباس حدیثیں روایت کرنے والوں کے سلسلہ میں جب بھی سرفہرست حضرت ابن عباس کا نام آتا ہے تو مسلمان علماء کی بھاری اکثریت مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہتی۔وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ جھوٹی حدیثیں گھڑنے والوں کا یہ عام وطیرہ تھا کہ وہ حضرت ابن عباس کے نام اور ان کی شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راویوں کے اپنے من گھڑت سلسلہ کو ان سے جاملاتے تھے تا کہ ان کی وضع کردہ حدیث مستند شمار ہو سکے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان تمام حدیثوں کو جو حضرت ابن عباس کے نام سے شروع ہوتی ہوں گہری نظر سے جانچا اور پرکھا جائے۔مزید برآں اگر کسی راوی نے حضرت ابن عباس کی کہی ہوئی بات کو آگے پوری دیانتداری سے بیان کیا ہو تو بھی اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت ابن عباس نے جو کچھ کہا آگے عکرمہ نے بوجہ انسان ہونے کے اس کا مطلب سمجھنے میں غلطی کی ہو۔یہ بات درج ذیل مثال سے بخوبی واضح ہوسکتی ہے :۔لے فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَد قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ المَيْتَ يُعَذِّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَالَتْ: رَحمَ اللهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ المُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَقَالَتْ: حَسْبُكُمُ القُرْآنُ: وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ابن عباس" کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مرے ہوئے شخص پر رونا پیٹنا اس وفات یافتہ شخص کو عذاب میں مبتلا کرنے کا موجب ثابت ہوتا ہے۔ابن عباس مزید کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر وفات پاگئے تو میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ کے سامنے بیان کی۔انہوں نے کہا اللہ عمر کو معاف بخاری کتاب الجنائز