مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 224

۲۲۴ مذہب کے نام پرخون ہے وہ پورے سیاق و سباق کے ساتھ سامنے آجائے اور اس کے بارہ میں قطعاً کوئی شبہ باقی نہ رہے۔قبل اس کے کہ ہم ان آیات کے اصل مضمون کی طرف آئیں یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ لوگ جو سورۃ التوبہ کی آیات ۱۱، ۱۲ کے اصل مضمون سے اعراض کرتے ہوئے ان سے زبردستی یہ استنباط کرتے ہیں کہ ارتداد کی سزا قتل ہے وہ اس امر کی کوئی وضاحت نہیں کرتے کہ ان کے اس استنباط اور قرآن مجید کی متعدد دوسری آیات میں جو ز بر دست تضاد پایا جاتا ہے اسے کیونکر حل کیا جاسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اس تضاد کو دور کر ہی نہیں سکتے۔جو لوگ اس امر کے حامی ہیں کہ ارتداد کی سزا قتل ہے انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذکورہ بالا جملہ آیات مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں (ملاحظہ ہو آیت ۳) اور یہ وہ زمانہ تھا جب کہ قریش مکہ اسلام کو بزور شمشیر صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لئے کھلی کھلی دشمنی کی راہ پر گامزن ہو چکے تھے۔سو یہ آیات ان مشرکوں کے بارہ میں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کو جان بوجھ کر توڑا تھا اور اسلام کا تمسخر اڑانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ان آیات میں ایسے لوگوں کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے جو اسلام پر ایمان لانے کے بعد اس سے پھر گئے ہوں اور جنہوں نے اسلام کو ترک کرنے کا اعلان کیا ہو۔مومنوں کو مخاطب کر کے ذکر تو صرف اس امر کا کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ معاہدہ کرنے اور پختہ عہد باندھنے کے بعد اسے عمدا توڑ دیا ہے وہ تمہارے دین کے ساتھ دشمنی میں حد سے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اور اسے بزور شمشیر مٹانے پر تل گئے ہیں۔اور پھر جارحیت کی ابتداء بھی انہوں نے ہی کی ہے تمہیں ان سے لڑنے کی تو اجازت ہے لیکن یہ اجازت صرف ان کے سرداروں کے خلاف لڑنے تک محدود ہے کیونکہ ان کے عہد و پیمان سب جھوٹے اور سراسر بے وقعت ثابت ہو چکے ہیں۔نیز یادر ہے کہ یہ اجازت تمہیں اس لئے دی گئی ہے تا کہ وہ تمہارے خلاف جارحانہ اقدامات سے باز آجائیں۔یہ ہے صحیح مفہوم ان آیات کریمہ کا جسے توڑ مروڑ کر قتل کی سزا کے حامیوں نے اپنا مؤقف درست ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ان آیات میں خفیف سے خفیف اشارہ بھی ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جنہوں نے اسلام پر ایمان لانے کے بعد سے ترک کر دیا ہو اور انہیں جبر ااسلام میں واپس -