مذہب کے نام پر خون — Page 212
۲۱۲ مذہب کے نام پرخون لیں لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔سوڈان میں محمد محمود طہ کو ۱۹۸۵ء میں پھانسی دی گئی۔وہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ قرآن مجید میں درج جو قوانین مدینہ میں نازل ہوئے تھے وہ آئندہ زمانوں کے لئے قابل عمل نہیں ہیں۔یہ بات خاص طور پر نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ مملکت ترکیہ کے عثمانی سلطان نے ہر چند کہ وہ ایک مذہبی سلطنت کا سر براہ اور تمام مسلمانوں کا خلیفہ تھا۔بہاء اللہ (۱۸۱۷ء تا ۱۸۹۲ء) کو ارتداد کی بناء پر قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔بہاء اللہ نے اپنے آپ کو باب کی پیشگوئی کے بموجب آنے والا موعود قرار دے کر بہائی مذہب کی بنیاد ڈالی تھی کے بہائی مذہب اسلام سے کلی طور پر مختلف تھا اور ہنوز مختلف ہی ہے۔اس مذہب کی رو سے (نعوذ باللہ ) قرآن مجید اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی لائی ہوئی تعلیم کا زمانہ گزر چکا ہے اور اب یہ تعلیم دنیا کے لئے کارآمد نہیں ہے۔بہاء اللہ کو حیفا کے نزدیک علمہ کے مقام پر قید کیا گیا اور پھر اسے فلسطین کے اُس حصہ میں جواب اسرائیل کہلاتا ہے قید میں رکھا گیا۔برخلاف اس کے جب ایک یہودی راہب ستبا تائی زیوی (۱۹۲۷ ء - ۱۶۷۶)SABBATAI ZEVI نے ۱۹۴۸ء میں مسیح ہونے کا دعوی کیا تو سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام نے اس کے قتل کا حکم صادر کیا۔اسے گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن محض موت سے بچنے کی خاطر اپنے دعوے سے تائب ہونے کا اعلان کر کے وہ مسلمان ہو گیا۔بہاء اللہ نے دعوی یہ کیا تھا کہ اس کے وجود میں خدا کا ایک نیا ظہور ہوا ہے۔اس دعوے کے ساتھ ہی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا تھا لیکن اس کے ارتداد کے باوجود اسے قتل نہیں کیا گیا کیونکہ اس کا وجود دسلطنت عثمانیہ میں قانون کی حکمرانی اور امن وامان کے لئے خطرہ کا موجب نہیں تھا۔جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں ارتداد کے مسئلہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کے نزدیک تو اس کی حیثیت ایک اجنبی مسئلہ کی ہے۔اسی لئے اسلام کی رو سے اس دنیا میں ارتداد کی سرے سے کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کے فسادات کے سلسلہ میں پنجاب ایکٹ دوم مجریہ ۱۹۵۴ ء کی رو سے جو تحقیقاتی عدالت قائم کی گئی تھی اس میں پیش ہونے والے علماء نے بڑے شدومد سے اس امر پر اصرار کیا کہ ایک اسلامی مملکت میں اسلام سے لیکن مرزا محمد علی باب نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اسے 9 جولائی ۱۸۵۰ء کو تبریز میں قتل کیا گیا۔