مذہب کے نام پر خون — Page 213
۲۱۳ مذہب کے نام پرخون ارتداد اختیار کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کی سزا موت مقرر ہے۔ان علماء کے نام یہ ہیں:- مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری صدر جمعیۃ العلمائے پاکستان پنجاب۔مولانا احمد علی صدر جمعیۃ العلمائے اسلام مغربی پاکستان۔ابو الاعلیٰ مودودی بانی و سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان۔مفتی محمد ادریس جامعہ اشرفیہ لا ہور ورکن جمعیۃ العلمائے پاکستان۔مولا نا داؤد غزنوی صدر جماعت اہل حدیث مغربی پاکستان۔مولانا عبد الحلیم قاسمی جمعیتہ العلمائے اسلام پنجاب اور مسٹر ابراہیم علی چشتی ہے۔مذکورہ بالا علماء کے اس اصرار پر کہ اسلام میں ارتداد کے لئے قتل کی سزا مقرر ہے تحقیقاتی عدالت نے تبصرہ کرتے ہوئے جس رائے کا اظہار کیا وہ خود اس کے اپنے الفاظ کی رو سے یہ ہے :- اس عقیدے کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خاں نے اگر اپنے موجودہ مذہبی عقائد ورثے میں حاصل نہیں کئے بلکہ وہ خود اپنی رضامندی سے احمدی ہوئے تھے تو ان کو ہلاک کر دینا چاہیے۔اور اگر مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری یا مرزا رضا احمد خاں بریلوی یا ان بے شمار علماء میں سے کوئی صاحب [ جو فتوی (14۔EX۔D۔E) کے خوبصورت درخت کے ہر پتے پر مرقوم دکھائے گئے ہیں] ایسی اسلامی مملکت کے رئیس بن جائیں تو یہی انجام دیو بندیوں اور وہابیوں کا ہوگا جن میں مولا نا محمد شفیع دیوبندی ممبر بورڈ تعلیمات اسلامی ملحقہ دستور ساز اسمبلی پاکستان اور مولا نا داؤ دغزنوی بھی شامل ہیں۔اور اگر مولانا محمد شفیع دیو بندی رئیس مملکت مقرر ہو جائیں تو وہ ان لوگوں کو جنہوں نے دیو بندیوں کو کا فرقرار دیا ہے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں گے اور اگر وہ لوگ مرتد کی تعریف میں آئیں گے یعنی انہوں نے اپنے مذہبی عقائد ورثے میں حاصل نہ کئے ہوں گے بلکہ خود اپنا عقیدہ بدل لیا ہو گا تو مفتی صاحب ان کو موت کی سزا دے دیں گے۔جب دیو بندیوں کا ایک فتویٰ (13۔EX۔D۔E) جس میں اثنا عشری شیعوں کو کا فرومرتد قرار دیا گیا ہے عدالت میں پیش ہوا تو کہا گیا کہ یہ اصلی نہیں بلکہ مصنوعی ہے لیکن جب مفتی محمد شفیع نے اس امر کے متعلق دیو بند سے استفسار کیا تو اس دارالعلوم کے نے منیر کمیشن رپورٹ صفحہ ۲۱۹،۲۱۸