مذہب کے نام پر خون — Page 211
۲۱۱ مذہب کے نام پرخون جاسوس خدمات بجالا رہا تھا۔۱۲۴ یا ۱۲۵ هجری مطابق ۷۴۶ یا ۷ ۷۴ عیسوی میں جذابن درہم کو ہشام بن عبد الملک کے حکم سے کوفہ یا واسط میں قتل کیا گیا۔اس کے خلاف خلق قرآن اور جبر و اختیار کے معتزلی عقائد کو پھیلانے اور عام کرنے کا جرم عائد کیا گیا تھا۔۱۶۷ یا ۱۶۸ ہجری مطابق ۷۸۸ عیسوی میں عراقی شاعر بشار بن برد پر زندقہ کا الزام لگایا گیا اور پھر اسے زد و کوب کر کے بطیحہ کے قریب دلدل میں پھینک دیا گیا۔۳۰۹ ہجری مطابق ۹۳۰ عیسوی میں الحسین بن منصور الحلاج کو کفریہ کلمات کہنے کی پاداش میں سولی دی گئی۔اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے دعوی کیا تھا کہ اللہ تعالی نے اس کی ذات میں حلول کر لیا ہے۔۵۷۸ ہجری مطابق ۱۱۹۹ عیسوی میں الملک النظاہر کے حکم سے شہاب الدین سیحی السہر وردی کو قتل کیا گیا۔اُس کا جرم یہ تھا کہ وہ خیال کرتا تھا کہ ہر چیز جو موجود ہے یا حرکت میں ہے اپنا ایک وجود رکھتی ہے وہ ایک صداقت ہے۔وہ خدا کی ہستی کے ثبوت میں بھی نور یا روشنی کی علامت کو پیش کرتا تھا۔سترھویں صدی کا شہید محمد سعید سرمد نامی ایک شخص تھا۔وہ کا شان میں یہودی والدین کے گھر پیدا ہوا پیدا ہوا تھا۔اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ ایک یہودی ربی تھا۔یہ عظیم ایرانی شاعر وحدت جو ہر کا قائل MONIST تھا اور مادہ کے علیحدہ وجود کو تسلیم نہ کرتا تھا۔اسے اور نگ زیب کے عہد حکومت (۱۶۵۸ ء تا ۱۷۰۷ء) میں قتل کیا گیا۔اس کا مزار جامع مسجد دہلی کے سامنے سڑک کے اس پار واقع ہے۔سینکڑوں مسلمان روزانہ اس مزار پر پھول چڑھاتے اور فاتحہ پڑھتے ہیں۔افغانستان میں دو احمدیوں کو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے اس دعوے کو درست تسلیم کرنے کی پاداش میں کہ امت میں جس مسیح کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا میں وہی مسیح موعود ہوں قتل کیا گیا۔ان میں سے ایک حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب تھے۔یہ وہ بزرگ تھے جنہوں نے شاہ افغانستان امیر حبیب اللہ خان کی رسم تاجپوشی اپنے ہاتھوں سے ادا کی تھی۔انہیں ۱۹۰۳ ء میں سنگسار کر کے شہید کیا گیا۔اسی طرح مولوی نعمت اللہ خان کو ۱۹۲۴ء میں شہید کیا گیا۔دونوں کو یہ مہلت دی گئی تھی کہ وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی“ کے دعاوی کا انکار کر کے اپنی جان بچا