مذہب کے نام پر خون — Page 142
۱۴۲ مذہب کے نام پرخون سنگریزوں سے خالی ہے۔اس کے ہونٹوں پر محبت میں ڈوبی ہوئی ابدی صداقتوں اور توحید کالا زوال پیغام ہے اور اس کی جھولی آسمانی رحمتوں سے بھر پور ہے۔وہ یہ منادی کرنے آیا ہے کہ اپنے ربّ پر ایمان لے آؤ۔وہ انہیں نیک باتوں کا حکم دینے کے لئے آیا ہے اور بری باتوں سے رکنے کی تلقین کرتا ہے۔وہ انہیں بڑے پیار سے نصیحت کرتا ہے کہ ظلم اور تعدی سے باز آجاؤ اور غصب اور چوری اور لوٹ مار سے پر ہیز کرو مگر اس رسول کی طرف سے توحید اور سلامتی اور امن کے اس پیغام کوسن کر اس بد بخت بستی کے بدقسمت سردار عبدیالیل کی غیرت جوش میں آجاتی ہے اور وہ اپنے خداؤں کی یہ ہتک برداشت نہیں کر سکتا اور اپنی آنکھ کے اشاروں سے گلیوں کے اوباش لونڈے اس کے پیچھے لگا دیتا ہے۔ان کے ہونٹوں پر غلیظ گالیاں ہیں۔ان کے ناپاک ہاتھوں میں پتھر ہیں اور ان کی جھولیاں سنگریزوں سے بھری ہوئی ہیں مگر اس مقدس رسول کا عزم غیر متزلزل ہے اور اپنے انداز تبلیغ سے سرمو بھی انحراف نہیں کرتا۔ان بے رحم پتھروں کی چوٹوں سے اس کا انگ انگ دکھنے لگتا ہے اور اس کے دل کے دکھ کا سوائے خدا کے اور کوئی راز دان نہیں۔اس کا خون طائف کی گلیوں میں بے محابا بہنے لگتا ہے مگر آسمانی آقا کے سوا کسی کو اس خون کی خبر نہیں جو اس کے دل سے اس غم سے ٹپک رہا تھا کہ کہیں یہ ظالم لوگ اس ظلم سے ہلاک نہ ہو جا ئیں۔اور ان سب دکھوں اور گالیوں اور صدموں کے جواب میں جو وہ ان ننگ انسانیت ظالموں کے ہاتھوں سے اٹھاتا ہے اس کے دل اور اس کے دماغ اور اس کی زبان پر ایک ہی دعا جاری اور طاری و ساری ہے کہ اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اے میرے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے دے کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں۔یہ تھا وہ طریق تبلیغ جسے آپ نے اختیار کیا۔مخالف اپنے طریق ظلم وستم پر جمے رہے اور آپ اپنے طریق رحم و شفقت پر قائم - لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِین کی ایک عجیب تصویر نظر آتی تھی۔ظالموں پر تو یہ دشت سوار تھی کہ جس طرح بن پڑے آپ کو ہلاک کر دیں اور آپ کو یہ غم تھا کہ کہیں ظالم ہلاک نہ ہو جا ئیں۔آپ نے صرف فلاح اور کامرانی کی طرف زبانی دعوت پر ہی اکتفاء نہ کی بلکہ اس راہ میں دن بھر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ساری ساری رات اپنے