مذہب کے نام پر خون — Page 143
۱۴۳ مذہب کے نام پرخون خدا کے حضور روروکر کاٹ دی کہ اللّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ !! یہاں تک کہ اس دردمند دل کے گہرے سوز و گداز کو دیکھ کر خدا تعالیٰ بھی عرش سے پکارا تھا:۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ٤) کہ اے میرے عزیز ترین بندے! کیا تو اس غم میں اپنی جان ہلاک کر دے گا کہ یہ ایمان نہیں لاتے ؟ یہ تھا وہ طریق تبلیغ جو آپ نے اختیار کیا اور یہی وہ دعا ئیں تھیں اور یہی آپ کے سینے کے وہ پر پیچ و تاب غم تھے جو ایک دن عرب کی سرزمین پر خوش خبریاں بن کر ظاہر ہوئے اور بشارتیں بن کر فارس کے افق پر چمکے! جھوٹ کہتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ میرے آقا کا یہ طریق تبلیغ ضائع گیا اور بہتان باندھتا ہے وہ شخص جس کے نزدیک اس کی سب دردمندانہ دعا ئیں فضا میں پراگندہ ہوگئیں اور دور مظلومیت رائیگاں گیا اور اگر کچھ کام آیا تو تیر کام آئے اور تلواروں نے فائدہ دیا۔کاش کہ وہ یہ جانتا کہ گوتیر ہی کام آئے مگر نیم شبی دعاؤں کے وہ تیر جو کبھی خطا نہیں جاتے اور تلواروں ہی نے فائدہ دیا مگر صبر و استقلال ، شرافت و نجابت، براہین اور معجزات کی ان تلواروں نے جن کی دھار قلوب کی اتھاہ گہرائیوں تک مار کرتی ہے۔کہاں ہیں وہ علماء جو تاریخ اسلام سے واقفیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہاں ہیں وہ خدام دین جو خدمت اسلام کی تمنائیں لئے ہوئے ہیں؟ کیا کوئی ہے ان میں جو خدمت دین کی ان کٹھن وادیوں کو طے کر سکے جنہیں ہمارے آقا اور اس کے سچے عشاق کی جماعت نے تقریباً چودہ سو برس پہلے طے کر کے دکھایا تھا ؟ کیا کوئی ہے ان میں جو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طریق تبلیغ کو اختیار کر سکے جس کا اختیار کرنا ہزار مشقتوں اور لاکھ مصائب و آلام کو دعوت دینا ہے اور اس کی پیروی میں صبر و استقلال، حلم و رشد ، شرافت و نجابت اور رحمت و شفقت کے وہ اعلیٰ نمونے دکھائے جنہوں نے پر وحشت صحرائی دلوں کو بھی رام کر لیا تھا اور جس کے دام محبت میں طائف کا عبد یا لیل بھی آخر اسیر ہوکر رہا۔جس کے دشمن فدائی بن گئے اور خون کے پیاسے غلامانِ در