مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 141

۱۴۱ مذہب کے نام پرخون مجسٹریٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور اسسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس کے چوٹیں آئیں۔ایک ،پولیس کے چوٹیں آئیں سب انسپکٹر پولیس کے چھرا گھونپ دیا گیاہے “۔اور اسی شہر میں ایک اور مقام پر :۔تیسرے پہر ہجوم نے ایک اے ایس آئی اور ایک کانسٹیبل پر یورش کی۔اے ایس آئی کاریوالور اور کانسٹیبل کی بندوق چھین لی اور ان کی وردیاں جلا دیں۔ایک اور پیادہ کانسٹیبل کسی کیس کی مملوکات لئے جار ہا تھا اس پر حملہ کیا گیا اور مملوکات چھین لی گئیں۔دو احمد یوں 6 کے چھرا گھونپ دیا اور تین دوسرے احمدیوں کے مکان لوٹ لئے گئے ہے ،، جب انسان ان حالات کو پڑھتا ہے تو بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک اے۔ایس۔آئی اور ایک کانسٹیبل پر یورش سے اسلام نے کس میدان میں فتح حاصل کی ؟ اور ان دو احمد یوں اور اس انسپکٹر پولیس کے خون سے جن کو چھرا گھونپا گیا اسلام کی رگوں میں کون سا تازہ خون دوڑنے لگا؟ اور اس لوٹے ہوئے مال سے جو ان تین احمدیوں کے گھروں سے لوٹا گیا اسلام کے خزانوں میں آخر کیا اضافہ ہوا ؟ اور کیا اسلام کا خدا واقعی عرش سے اس ماجرا کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا جو دار الشہابیہ کی گلیوں میں گزرا؟ اور وہ پتھر جو دار الشہابیہ کے بالا خانوں سے چند مسلمان پولیس افسروں پر برس رہے تھے کیا واقعی رضائے الہی کے جذب کرنے والے پتھر تھے؟ ایک انسان یہ سوچنے پر بے اختیار مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا نعوذ باللہ سید ولد آدم کا طریق تبلیغ بھی اسی طریق کے مشابہ تھا؟ مگر اس مقام پر انسان کا فکر طائف کی گلیوں سے ٹکرا کر ناکام و نامراد واپس آجاتا ہے اور اسے اس نظارہ کی کوئی نظیر بھی آنحضرت کی مقدس زندگی میں نظر نہیں آتی۔اگر وہ کچھ دیکھتا ہے تو یہی کہ خدا کا وہ سب سے پیارا رسول نہتہ اور یکہ و تنہا، ایک بے پناہ عزم اپنے دل میں لئے اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے عرب کی سنگلاخ ترین زمین پر آباد ایک بدقسمت بستی میں اس امید پر داخل ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ اس آسمانی پیغام کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں جسے مکہ کے سرکش سرداروں نے ٹھکرا دیا تھا۔اس کے ہونٹوں پر کوئی سخت کلمات نہیں ، اس کے ہاتھوں میں کوئی پتھر نہیں ، اس کی جھولی ے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۷۶ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۷۸