مذہب کے نام پر خون — Page 140
ظفر اللہ کنجر ظفر اللہ کتا ” ظفر اللہ سور“ 66 مذہب کے نام پرخون خدارا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ ہمارے مقدس آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق تبلیغ سے اس طریق کو کوئی دور کی بھی نسبت ہے؟ ہر سچا مسلمان بلکہ ہر سلیم الفطرت انسان کا دل یہ گواہی دے گا کہ نہیں یقینا نہیں۔یقیناً نہیں۔یقینا نہیں۔ظلمت کو بھی نور سے اتنی دور کی نسبت نہیں جتنی اس طریق تبلیغ کو ہمارے آقا کے پاکیزہ طریق سے تھی۔پھر دل کیوں خون کے آنسو نہ روئے یہ سوچ کر کہ اسلام کا یہ مذاق کسی دشمن اسلام نے نہیں اڑایا بلکہ ان لوگوں نے اڑایا جو علمائے اسلام ہونے کے دعویدار تھے۔چنانچہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسٹر انور علی ڈی۔آئی۔جی نے لکھا کہ:۔”مذہبی جنونیوں اور مولویوں نے طاقت پکڑ لی ہے اور غنڈے بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔،، کیا اس کی کوئی ایک مثال بھی تاریخ انبیاء سے مل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء اور ان کے حامیوں نے غنڈوں کی حمایت حاصل کر کے خدمت دین کے لئے کوئی اس نمونہ کا جلوس نکالا ہو؟ کیا مذہب کے تصور کی اس سے زیادہ تحقیر ممکن ہے؟۔۔۔۔۔مگر یہ تو اس قسم کے سینکڑوں مظاہروں میں سے صرف ایک ادنی سا نمونہ ہے۔جوں جوں وقت گزرتا گیا علماء کی تقریریں زیادہ اشتعال انگیز ہوتی چلی گئیں اور بے شمار سینوں میں آتش غیظ و غضب بھڑ کنے لگی اور وہ کثیر التعداد لاعلم عوام جنہیں اپنے آقا کے اسوہ حسنہ کی کچھ بھی خبر نہ تھی ان علماء کے بتائے ہوئے طریق پر ” خدمت اسلام میں مصروف ہو گئے اور ہر اس نیک رسم کی بیخ کنی کی جانے لگی جسے دنیا میں قائم کرنے کے لئے عرب کے افق سے وہ بے مثال نور کا سورج ابھرا تھا۔چنانچہ سیالکوٹ کا اسی قسم کا ایک مشتعل ہجوم :۔منڈیروں پر سے اینٹیں پھینکنے لگا جن کی وجہ سے پولیس نے ان گاڑیوں کے پیچھے پناہ لی جو دار الشہابیہ کے سامنے سٹرک پر کھڑی تھیں۔خشت باری کی وجہ سے ڈسٹرکٹ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۳۵۶ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۲۵۶