مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 139

۱۳۹ مذہب کے نام پرخون خدمت اسلام کی بعض جھلکیاں تمام انبیاء اور ان کی پاک جماعتوں نے صداقت کو پھیلانے کے لئے اپنے اپنے رنگ میں جدو جہد کی ہے اور ان کی کوششوں کا ذکر تمام کتب مقدسہ میں آج تک محفوظ ہے خصوصاً قرآن کریم نے ان کے طریق تبلیغ اور ان ذرائع کی نہایت ہی صاف اور پاکیزہ تصویر کھینچی ہے جنہیں وہ دنیا کو ہدایت اور نور کی طرف بلانے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں اور اس تصویر کشی میں ایک ایک نقش ایسا روشن اور اجا گر کر دیا ہے کہ گویا آج ان مقدس لوگوں کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اشاعت دین میں مصروف دیکھ رہے ہوں۔آپ ان سب کے حالات پر ایک نگاہ ڈالئے اور پھر اس خدمت اسلام“ کی طرف بھی ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھئے جسے ۵۳ - ۱۹۵۲ء کی تحریک ختم نبوت“ کے بانی مبانی خدا تعالیٰ اور اس کے بزرگ ترین رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر بجالا رہے تھے۔تحقیقاتی عدالت کے فاضل جج اپنی رپورٹ میں ان کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔۲۵ جولائی ۱۹۵۲ ء کو قصور میں نماز جمعہ کے بعد ایک جلسہ ہوا جس کے مقررین میں ایک عالم شاہ بدمعاش بھی تھا۔اس کے بعد چھاتی پیٹتا ہوا ایک جلوس نکالا گیا ایک آدمی نعرہ لگاتا تھا ظفر اللہ کنجر اور دوسرے آواز ملا کر چلاتے تھے ”ہائے ہائے“۔اس کے بعد عالم شاہ اور ایک اور آدمی کہیں سے ایک گدھی لے آئے جس پر بیگم ظفر اللہ کے الفاظ لکھ دیئے۔پھر اس پر ایک آدمی کو سوار کرایا اور اس آدمی کو جوتیوں کا ہار پہنا دیا۔یہ شخص ٹاپ ہیٹ سر پر رکھے تھا جس پر غلام حمد مرز الکھا تھا۔یہ جلوس احمدیوں کے ایک کارخانہ کے سامنے رکا اور پندرہ منٹ تک یہ نعرہ لگا تا رہا ”مرزائیت کو تباہ کرو۔