مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 136

مذہب کے نام پرخون لگائیں۔اس کے اوراق پھاڑ دیئے اور ایک چھوٹے سے لڑکے کو ہلاک کر دیا۔دہلی دروازہ کے باہر جلسہ ہوا جس میں ایک لڑکا پیش کیا گیا جو اپنے ہاتھوں میں قرآن مجید کے چند پھٹے ہوئے اوراق لئے ہوئے تھا۔اس نے بیان کیا کہ میں کلام الہی کی اس تو ہین کا عینی گواہ ہوں۔ایک مولوی نے (غالباً مولوی محمد یوسف صاحب) یہ اوراق ہاتھ میں لے کر حاضرین کو دکھائے اور ایک نہایت پر تشدد تقریر کی جس سے غصہ سے بھرا ہوا مجمع اور بھی زیادہ غضبناک ہو گیا۔واقعہ کی یہ بناوٹی کہانی ہر جگہ جوش میں بھرے ہوئے لوگوں کا موضوع گفتگو بن گئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی جس سے پولیس کے خلاف غیظ ونفرت کے جذبات برانگیختہ ہو گئے لے “۔اور صرف جذبات ہی برانگیختہ نہیں ہوئے بلکہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے مطابق:۔اسی غلط افواہ سے اشتعال کے نتیجہ میں سید فردوس شاہ ڈی۔ایس۔پی کی وفات کا حادثہ ہوا۔ان پر چھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کر کے وہیں ہلاک کیا گیا۔سید فردوس شاہ کے جسم پر ۵۲ زخموں کے نشان تھے کے “۔یہ تھا ان مذہبی راہنماؤں کا طریق کارجو خدا تعالیٰ کے سب سے سچے بندے اور راستبازوں کے سردار حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے لے کر اور آپ کے قرآن کو ہاتھوں میں تھامے ہوئے دنیا میں جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے اور صرف احمدی ہی ان کی مشق ستم کا نشانہ نہیں بنے بلکہ ہر وہ شریف النفس اور جرات مند پاکستانی بھی ان کی افتراء پردازی کا شکار ہونے لگا جس نے ان کی اس بے راہ روی کے خلاف آواز اٹھائی اور ہر وہ پولیس کا سپاہی جو ان کی راہ میں حائل ہونے لگا ان کی اینٹوں کا نشانہ بن گیا اور یہ صورت حال اتنی شدید ہوگئی کہ شرفاء میں اس کے خلاف آواز اٹھانے تک کی سکت باقی نہ رہی۔چنانچہ فاضل جج اپنی رپورٹ میں گوجرنوالہ کی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۵۸ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۶۰