مذہب کے نام پر خون — Page 137
مذہب کے نام پرخون ” جب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ٹرین کو روانہ کر دینے کی دوسری کوشش کی تو ان پر حملہ کر دیا گیا جس سے دو چار اور پولیس مین زخمی ہو گئے جن میں ایک انسپکٹر بھی تھا اسی دن شام کو پانچ ہزار کے ایک جوش میں بھرے ہوئے ہجوم نے ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلہ پر سندھ ایکسپریس کو روک لیا۔سپر نٹنڈنٹ پولیس چھ پیادہ کانسٹیبلوں کو ساتھ لے کر اس مقام پر پہنچے مگر ان پر اینٹوں اور پتھروں کی بوچھاڑ کی گئی۔چونکہ اس وقت اندھیرا ہو چکا تھا اور اگر ہجوم منتشر نہ ہوتا تو تشدد پر اتر آتا اور ٹرین کے مسافروں کی پریشانی کا باعث ہوتا۔اس لئے سپر نٹنڈنٹ پولیس نے تین پیادہ کانسٹیبلوں کو حکم دیا کہ بارہ راؤنڈ ہوا میں چلائیں۔اس سے ہجوم منتشر ہو گیا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہوا اور اس کے بعد معززین شہر کا ایک اجلاس ریلوے اسٹیشن پر طلب کیا گیا۔اگر چہ ان میں سے ہر ایک اس غنڈے پن کی مذمت کر رہا تھا لیکن کسی قسم کی عملی امداد کرنے پر آمادہ نہ تھا کہ مبادا وہ کافر یا مرزائی قرار دیا جائے لے “۔یہ خوف کوئی فرضی خوف نہیں تھا اور عملی امداد کرنے کی سزا بڑی سنگین تھی۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت کے جج اسی قسم کے ایک جرات مندانہ اظہار شرافت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔اسی شام کو ایک غیر احمدی عبدالحی قریشی کو جس نے ہجوم کو تشدد سے منع کیا تھا زدوکوب کیا گیا اور اس کا گھر لوٹ لیا گیاہے “۔یہی وجہ تھی کہ بعض ایسے غیر جانبدار اخبارات بھی جو اس غیر اسلامی ہنگامہ کو نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے اس کے خلاف جرات مندانہ اظہار رائے سے گریز کرتے رہے۔چنانچہ جب صورت حال کو قابو سے نکلتے دیکھ کر حکومت نے آخر کچھ مضبوط اقدام کرنے کا فیصلہ کیا اور ہوم سیکرٹری نے بعض اخبارات کے ایڈیٹروں کو بلوا کر انہیں اس امر پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ نفاذ قانون کے سلسلہ میں حکومت کی کوششوں کی تائید کریں تو مسٹر حمید نظامی نے جو اس وقت نوائے وقت کے ایڈیٹر تھے۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۸۲ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۷۷