مذہب کے نام پر خون — Page 132
۱۳۲ مذہب کے نام پرخون وو قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے یہ کہہ دیا کہ قائد ملت کے قتل میں (جو گزشتہ 66 اکتوبر میں ہوا تھا ) احمدیوں کا ہاتھ تھالے “۔مگر اس الزام کا بودا پن ایسا ظاہر و باہر تھا کہ فاضل جوں نے اس پر محض یہ طنز یہ فقرہ چست کرنا ہی کافی سمجھا کہ:۔ان لوگوں کی تعریف کرنی پڑتی ہے کہ یہ تمام قومی مصائب کی تحقیقات کے گمشدہ سلسلے دریافت کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں کے “ پھر مظفر گڑھ کی ایک تقریر میں ایک نہایت مشہور احراری لیڈر نے جواب اس جہان سے کوچ کر چکے ہیں احمدیوں پر بہتان باندھا کہ :۔’ ایک احمدی جاسوس ایک شخص کو پال داس کی معیت میں گرفتار کیا گیا ہے اور میں 66 نے حکومت کو اس سلسلہ میں عمدہ معلومات مہیا کی ہیں سکے ،، اس الزام کو اپنی رپورٹ میں درج فرما کر فاضل ج تحریر فرماتے ہیں:۔کیا عام سیدھے سادے لوگ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ بزرگ جو اپنی کہن سالی کے بوجھ سے زیر بار ہونے کے باوجود شمشیر کی طرح تیز ہے گوپال داس کے ساتھی کے متعلق ایسی کہانی تصنیف کرے گا جس کو سچائی سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ؟ اگر یہ سچ ہو تو کیا اس سے غداروں کے خلاف شدید جذبات مشتعل نہ ہوجائیں گے؟ اگر آپ یہ جانتے ہوئے کہ اس تقریر کی بناء جھوٹ پر ہے اس کو نظر انداز کر رہے ہیں تو یہ مقرر کے سفید بالوں کا احترام تو شائد ہولیکن آپ اس مرض سے تغافل کر رہے ہیں جو اس نے آپ کی 66 قوم میں پھیلا دیا ہے کے “ چنانچہ بڑے بڑے سفید ریش احرار علماء سٹیجوں پر چڑھ کر جھوٹ پر جھوٹ بولنے لگے اور تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۳۶ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۳۳۵ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحه ۳۳ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۳۳۰