مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 131

مذہب کے نام پرخون کے سر ہی دھرا گیا اور کبھی انہیں ہندوستان کا جاسوس کہا گیا اور کبھی ان پر گندے اخلاقی الزام لگائے گئے اور کبھی پاکستان کا غدار بتایا گیا اور افتراء اور ظلم کی کوئی حد نہ رہنے دی۔یہاں تک کہ احمدیوں پر یہ طومار بھی باندھا گیا کہ ہم نعوذ باللہ اپنے محبوب ترین نبی ، اپنے مقدس آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں اور آپ کو گالیاں دیتے ہیں مگر منصف جج صاحبان نے جب الزامات کی گہری چھان بین کی تو صورت حال کو بالکل برعکس پایا۔چنانچہ جنگ شاہی کے حادثہ سے متعلق وہ مسٹر انور علی ڈی۔آئی۔جی ہی۔آئی۔ڈی کا یہ تبصرہ نقل فرماتے ہیں کہ :۔دو یہ بیان بالکل جھوٹ ہے کہ جنگ شاہی یا لاہور چھاؤنی کے ہوائی حادثوں میں مرزائیوں کا ہاتھ تھا کیونکہ جنگ شاہی کے حادثہ میں جو اشخاص ہلاک ہوئے ان میں جنرل شیر خان تھے جو خود مرزائی تھے۔احرار کی تقریریں صرف زہریلی ہی نہیں بلکہ 66 ناشائستہ اور مکروہ ہیں لے ،، راولپنڈی سازش سے متعلق فاضل ججوں نے لکھا:۔مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵ را پریل ۱۹۵۱ء کومنٹگمری کا نفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس امر کی تحریری شہادت موجود ہے کہ راولپنڈی سازش سے احمدیوں کا تعلق موجود ہے، یہ بلاشبہ مہمل بات تھی۔پھر فرماتے ہیں:۔وو یہ واضح طور پر نفرت کی تلقین تھی اور نفرت بھی نہایت مکر وہ قسم کی کیونکہ نہ تو مولوی محمد علی ایسے اہم تھے کہ ایسی شہادت ان کے قبضہ میں ہوتی اور نہ کوئی تحریر اس کے بعد مقدمہ سازش کے ٹربیونل کے سامنے پیش کی گئی لیکن اس قسم کی شبہ انگیز خبر نہایت آسانی سےلوگوں کے دماغوں میں گھر کر لیتی ہے ہے “۔پھر خان لیاقت علی خان کے قتل کا الزام احمدیوں پر دھرتے ہوئے :۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۱۲۱ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۳۲۹