مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 105

۱۰۵ مذہب کے نام پرخون یہ آواز دے کر کہ ” خبر دار ! تم میں سے کوئی دوسرے کو اپنی طرف نہ بلائے ورنہ گردن مار دی جائے گی۔اس طریق پر تو تم سارے لوگ جل جاؤ گے اور یہ سوچ کر بھی ہماری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔اس لئے جس کروٹ پر جہاں جل رہے ہو و ہیں اسی کروٹ پر جلتے رہو ورنہ مار مارکر ہم ٹکڑے اڑا دیں گے۔شرم نہیں آتی ہمیں دکھ دیتے ہوئے ؟ ظالم کہیں کے!“ یہ آواز سن کر پھر کس کی مجال ہے کہ دم مارے اور جگہ تبدیل کرے؟ لیکن اگر اس جبس دوام سے سخت گھبرا کر اور عواقب سے بے خوف ہو کر کوئی ” جلنے والا یہ سوال کر بیٹھے کہ ” اے شاہ اقتدار ! آپ نے ہم سے تمام آزادیاں چھین لیں اور پابہ زنجیر کر دیا محض اس لئے کہ کسی طرح ہمیں آگ کے اس خطے سے نکالیں جسے ہم آگ کا خطہ نہیں سمجھتے اور اس سوزش کے عذاب سے بچالیں جس کی جلن کو ہم محسوس نہیں کرتے۔اے شاہ اقتدار ! ہم اس آگ کو تو آگ نہیں سمجھتے مگر یہ تلوار کے زور سے ہمارے ہاتھوں سے حکومتیں چھین کر اور آزادیوں کو سلب کر کے جو آگ آپ نے ہمارے سینوں میں بھڑ کائی ہے وہ ہمیں جلا کر خاکستر کئے دیتی ہے۔اس کے بدلہ میں ہم نے کیا پایا؟۔۔۔۔کیا ہم ابھی تک اسی طرح اسی خطہ نار میں موجود نہیں جس سے آپ ہمیں نکالنا چاہتے تھے؟ بس اب آپ یہاں کھڑے نظارہ کیا کر رہے ہیں؟ آگے بڑھئے اور اگر آپ کی ہمدردی کے دعوے بچے ہیں تو یا تو ہمیں اس خطہ نار سے نکال لیجئے جو آپ کے نزدیک خطہ نا ر ہے تاکہ ہمیں آزادی کے سانس نصیب ہوں یا پھر اس آگ ہی کو ٹھنڈا کر دیجئے جو خود آپ نے ہمارے سینوں میں بھڑکائی ہے۔“ یہ دردناک پکار سن کر وہ آواز دینے والا یہ جواب دے گا کہ ان دونوں کیفیتوں میں سے ایک کو بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔اسلام ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔زیادہ سے زیادہ جس چیز کو وہ بادل ناخواستہ گوارا کرتا ہے وہ بس یہ ہے کہ جو شخص خود کفر پر قائم رہنا چاہتا ہو ا سے اختیار ہے کہ اپنی فلاح کے راستہ کو چھوڑ کر اپنی بربادی کے راستہ پر چلتا رہے اور یہ بھی وہ صرف اس لئے گوارا کرتا ہے کہ زبر دستی کسی کے اندر 66 ایمان اتار دینا قانون فطرت کے تحت ممکن نہیں لے ،، مرتد کی سز ا صفحہ ۳۵