مذہب کے نام پر خون — Page 106
مذہب کے نام پرخون یہ جواب سن کر جو کچھ اس سوالی کے دل پر بیتے گی اس کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہر صاحب دل انسان کرسکتا ہے۔کیا وہ اس آتش زار کی دیواروں سے سر نہ پٹکے گا کہ جب یہ بزرگ جانتے تھے کہ ز بر دستی کسی کے دل میں ایمان اتار دینا قانون فطرت کے تحت ممکن نہیں“۔تو پھر یہ اب تک مجھ سے کیا سلوک فرماتے رہے ہیں؟ لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا فر کو اپنے آتش زار کی دیواروں سے سر پھٹکنے دیجئے اور اک ذرا وہ بھی سن لیجئے جو یہ جواب سن کر میرے دل پر گزری ہے۔غالب کے اس مصرعہ کے مطابق کہ ہے دل شوریدہ غالب طلسم پیچ و تاب واقعی دل مختلف قسم کے جذبات کے ہیجان سے ایک طلسم پیچ و تاب بن رہا ہے اور حیرت ہے اور غصہ ہے اور غم ہے اور سخت تلملاہٹ ہے کہ آخر کیوں وہ غیر فطری افعال جن کے کرنے کی خودمودودی صاحب کو بھی جرات نہ ہو سکی آپ نے اس جرات اور دھڑلے کے ساتھ ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کئے ہیں؟ خود تو اپنے تصور کی دنیا میں، اس دنیا میں جہاں تشدد کی بادشاہی تھی اور تلوار میں لہرا رہی تھیں اور گردنیں کائی جارہی تھیں جب اس مقام تک پہنچے جو اس جدو جہد کا آخری مقام تھا اور وہ قلعہ جب سامنے آیا جس کا سر کیا جانا ہی مقصود تھا تو ہاتھ لزر گئے اور قدم ڈگمگا گئے اور اس سراسر غیر فطری فعل کے دعوی کی بھی جرات نہ کر سکے۔اس وقت انہیں اپنی فطرت کی یہ آواز سنائی دی کہ زبر دستی کسی کے اندر ایمان اتار دینا قانون فطرت کے تحت ممکن نہیں۔“ میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ یہ فطرت کی آواز کیوں گنگ تھی جب میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ نا پاک الزام لگا رہے تھے کیوں نہ انہیں اس وقت یہ آواز سنائی دی جب ان کا قلم یہ زہر اگل رہا تھا کہ :۔وو قوم نے آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی۔۔۔۔۔۔تو رفته رفته بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا۔“