مذہب کے نام پر خون — Page 104
۱۰۴ مذہب کے نام پرخون اب ظاہر ہے کہ جب اسلام کا اصل موقف یہ ہے تو اس کے لئے اس بات کو پسند کرنا تو در کنار گوارا کرنا بھی سخت مشکل ہے کہ بنی آدم کے اندر وہ دعوتیں پھیلیں جو ان کو ابدی تباہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔وہ داعیان باطل کو اس بات کا کھلا لائسنس نہیں دے سکتا کہ وہ جس آگ کی طرف خود جارہے ہیں اس کی طرف دوسروں کو بھی کھینچیں لے مودودی صاحب کے الفاظ بھی آپ نے ملاحظہ فرمالئے اب میں اس پر مزید کیا کہوں حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں یہاں سوال یہ نہیں تھا کہ کافروں کو مسلمانوں میں تبلیغ کی اجازت ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ تھا کہ کافروں کو کافروں میں تبلیغ کی اجازت ہے یا نہیں مگر مودودی صاحب کے نزدیک اسلام داعیان باطلہ کو اس امر کی اجازت بھی نہیں دیتا۔دلیل کچھ اس طرح پر قائم کی گئی ہے کہ یہ کس طرح اجازت دی جاسکتی ہے کہ جس کفر کی آگ میں وہ خود پڑے ہوئے ہوں اس کی طرف دوسروں کو بھی کھینچیں حالانکہ صورت حال یہ بنتی ہے کہ جس آگ میں ایک قسم کے کافر پڑے ہوئے ہیں اسی آگ میں دوسری قسم کے کا فر بھی پڑے ہوئے ہیں اور جہاں تک ان کے آگ میں ہونے کا تعلق ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔اس لئے مودودی صاحب کی دلیل در اصل یہ بنے گی کہ اسلام “ یہ بھی برداشت نہیں کرسکتا کہ ایک وسیع آگ میں جلنے والے کفار اس آگ کی دوسری سمت سے لوگوں کو اپنی طرف بلائیں۔اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے تو بے چارے اس آواز پر لبیک کہنے والے جل جائیں گے اور اسلام یہ ظلم کس طرح برداشت کر سکتا ہے؟ پس بنی نوع انسان کی گہری ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ اول تو کچھ پچکار کر کچھ ڈرا دھمکا کر لوگوں کو اس آگ کے ٹکڑے سے نکالنے کی کوشش کی جائے لیکن اگر کوئی نہ مانے تو کم از کم یہ ضرور کیا جائے کہ لڑ کر بزور شمشیر اس خطہ نار پر اقتدار حاصل کر لیا جائے۔اور پھر جب اقتدار حاصل ہو جائے تو تلوارتانے ہوئے سنتری ان جلتے ہوئے کفار پر نگران کھڑے ہو جائیں اور ایک آواز دینے والا ا مرتد کی سز ا صفحه ۳۵