مذہب کے نام پر خون — Page 247
۲۴۷ مذہب کے نام پرخون عراقی حدیثیں بالعموم مشکوک ہوتی ہیں۔ایک بہت بڑے عالم دین بھی بن سعید الا نصاری نے عکرمہ کی نا قابل اعتبار حیثیت کی بناء پر اس کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ وہ ایک کذاب تھا۔اس کا مطلب ہے کہ وہ ان کے نزدیک پرلے درجہ کا جھوٹا اور بے پر کی اڑانے والا تھا۔عبد اللہ بن الحارث نے ایک بہت دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جس کے وہ عینی شاہد تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ علی بن عبد اللہ بن عباس سے ملنے ان کے گھر گئے۔وہ یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے کہ ان کے گھر کے دروازے کے باہر کسی نے عکرمہ کو ایک لمبے کھمبے کے ساتھ جکڑ کر باندھ رکھا ہے۔انہوں نے اس ظالمانہ حرکت پر اپنے دلی صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے علی بن عبد اللہ بن عباس سے کہا کیا تمہارا دل خوف خدا سے خالی ہے؟ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عکرمہ اپنی پارسائی کی شہرت اور عزت و احترام کی وجہ سے ایسے ظالمانہ اور ذلت آمیز سلوک کا مستحق نہیں ہے چہ جائیکہ اپنے مرحوم آقا کے فرزند کے ہاتھوں ہی اسے ایسی ذلت اٹھانی پڑے۔اپنے اس سلوک کو درست ثابت کرنے کے لئے علی بن عبد اللہ بن عباس نے جوابا کہا عکرمہ اس قدر گستاخ واقع ہوا ہے کہ اسے میرے مرحوم والد ابن عباس کی طرف سراسر جھوٹی اور من گھڑت باتیں منسوب کرنے میں بھی کوئی عار نہیں ہے۔عکرمہ کے چال چلن اور اوضاع و اطوار کے متعلق علی بن عبد اللہ بن عباس سے بڑھ کر اور کس کی گواہی معتبر ہو سکتی ہے؟ اس بارہ میں تعجب بے محل ہوگا کہ احادیث جمع کرنے والوں میں اولیت کا شرف رکھنے والے بزرگ ، فقہ کے نامور امام حضرت امام مالک بن انس (۹۵ تا ۱۷۹ ہجری) جنہیں پوری اسلامی دنیا میں عزت و احترام اور تعظیم و تکریم کا بہت بلند مقام حاصل ہے فرما یا کرتے تھے عکرمہ کی بیان کردہ احادیث سراسر غیر معتبر ہیں۔درج ذیل نامور علماء نے علی الاعلان کہا ہے کہ عکرمہ میں مبالغہ آرائی کا میلان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا (۱) امام یحی بن سعید الانصاری (۲) علی بن عبد اللہ بن عباس (۳) عطا بن ابی ربیعہ۔سو یہ ہے وہ شخص جس سے ہمارا واسطہ آن پڑا ہے اور جس کی اکیلی گواہی اور سند کے ساتھ مذہب تبدیل کرنے والوں کی زندگی اور موت کا معاملہ اٹکا ہوا ہے اور تا قیامت اٹکا رہے گا۔