مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 246

۲۴۶ مذہب کے نام پرخون عکرمہ زیر بحث حدیث کا اصل راوی کس حیثیت کا مالک تھا؟ حدیث کی صحت جانچنے کے سلسلہ میں اس امر کا جاننا بھی از بس ضروری ہے۔عکرمہ حضرت ابن عباس کا ایک غلام تھا اور شاگرد بھی۔جہاں تک اس کے شاگرد ہونے کا تعلق ہے وہ ایک ایسا شاگرد تھا جس کا پڑھائی سے دل اچاٹ تھا اور بہت پیچھے رہ جانے والے انتہائی پھسڈ کی قسم کے شاگردوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔اپنی اس حیثیت کی اس نے یہ کہہ کر خود تصدیق کی ہے کہ حصول علم کے بارہ میں اس کی عدم دلچسپی اور بلا اجازت مسلسل غیر حاضری پر حضرت ابن عباس بہت برافروختہ ہو جایا کرتے تھے اور وہ اسے اپنے درس میں حاضر رہنے پر مجبور کرنے کے لئے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیا کرتے تھے۔مزید برآں عکرمہ اسلام کے خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مخالف تھا اور خوارج کی طرف میلان رکھتا تھا۔خوارج کی طرف اس کا میلان اس زمانہ میں بہت بڑھ گیا تھا جب حضرت علی اور حضرت ابن عباس کے درمیان اختلافات ابھر نے شروع ہوئے۔جہاں تک عباسی خلفاء کا تعلق ہے وہ سیاسی خدشات کے پیش نظر اُن تمام لوگوں کے شدید مخالف تھے جو حضرت علی کی اولاد اور ان کی نسل کے کسی نہ کسی رنگ میں حامی یا ساتھی شمار ہوتے تھے۔چنانچہ جب عباسیوں کا دور شروع ہوا تو عکرمہ کو حضرت علی سے اس کی مخاصمت اور خوارج کے ساتھ اس کی راہ و رسم کے باعث ایک بالغ نظر عالم کی حیثیت سے بہت شہرت اور عزت و عظمت حاصل ہوئی۔ذہبی کا بیان ہے کہ چونکہ مکرمہ خوارج میں سے تھا اس لئے اُس کی بیان کردہ احادیث مشکوک اور نا قابل اعتبار ہیں۔ارتداد کی سزا کے بارہ میں سند کا درجہ رکھنے والے امام علی بن المدائینی کی بھی عکرمہ کے بارہ میں یہی رائے ہے۔یحی بن بکر کہا کرتے تھے کہ مصر، الجزائر اور مراکش کے خوارج عکرمہ کے مؤید اور پکے ساتھی تھے۔یہ بات بالعموم دیکھنے میں آئی ہے کہ ارتداد کے لئے سزائے موت سے متعلق احادیث بصرہ، کوفہ اور یمن سے چلی ہیں۔حجاز ( یعنی مکہ اور مدینہ ) کے لوگ ایسی احادیث سے بالکل بے خبر اور لاعلم تھے۔اس حقیقت سے آنکھیں موند لینا ممکن نہیں ہے کہ عکرمہ کی بیان کردہ زیر بحث حدیث ایک عراقی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔مشہور و معروف مکی امام طوس بن قیسان کہا کرتے تھے کہ