مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 239

مضامین ناصر — Page 74

۷۴ ہنگامی طور پر جمع کرتی رہی ہے۔مگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت دنیا میں ایک اقتصادی انقلاب پیدا ہو چکا ہے اور امیر وغریب کا امتیاز پہلے سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔جسے محض ہنگامی چندوں سے مٹایا نہیں جاسکتا۔اس لئے جیسا کہ ہم آگے چل کر دکھا ئیں گے۔ان طوعی چندوں کو مستقل بنیادوں پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔بعض اور طریقوں سے بھی اسلام نے امیر وغریب کے امتیاز کو کم سے کمتر کیا ہے۔ورثہ کے متعلق قوانین ورثہ کے متعلق مفصل اور معتین قوانین مقرر کئے گئے ہیں۔ورثہ میں سے ۱٫۳ حصہ وصیت کے ذریعہ دوسری جگہ جا سکتا ہے۔اس ذریعہ سے مال کی بہترین تقسیم میں مزید دروازہ کھولا گیا ہے۔ایک امیر کی وفات کے بعد اسلامی شریعت اس کی تمام جائیداد کو اس کے خاندان میں تقسیم کر دیتی ہے اور یہ حکم اس غرض کے ماتحت رکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جائیداد کسی ایک کو نہ دے۔بلکہ یہ اس کے ورثاء میں تقسیم کی جائے۔شریعت نے اس تقسیم میں اولاد کا بھی حق رکھا ہے۔ماں باپ کا بھی حق رکھا ہے۔خاوند کا بھی حق رکھا ہے اور بعض حالتوں میں بھائیوں اور بہنوں کا بھی حق رکھا ہے۔ان قوانین ورثہ کو بدلنے کی اجازت نہیں دی۔تا مرنے والا کسی ایک رشتہ دار کے حق میں اپنی تمام جائیداد نہ کر جائے اور دولت غیر محدود وقت کے لئے کسی ایک خاندان میں جمع نہ ہو۔اس حکم کے نتیجہ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جس کی بڑی سے بڑی جائیداد یا بڑی سے بڑی دولت کے تین چار نسلوں ہی میں حصے بخرے نہ ہو جائیں۔سود کی ممانعت (ب) اسلام نے سود کو منع قرار دیا اور اس طرح تجارت کو محدود کر دیا۔یا درکھنا چاہیے کہ دنیا کی اقتصادی تباہی کا سب سے بڑا موجب یہی سود ہے۔سود کے دو عجیب خواص ہیں۔جب مالدار ا سے لیتا ہے تو یہ اس کے اموال میں حیرت انگیز اضافہ کر دیتا ہے۔کیونکہ ایک مالدار اپنے اثر ورسوخ اپنی