مضامین ناصر — Page 75
۷۵ واقفیت اور اپنی ساکھ کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں روپیہ بنکوں وغیرہ سے سود پر لے سکتا ہے۔اور اس روپیہ سے وسیع پیمانہ پر کاروبار چلا کر اپنی دولت کو کئی گنا بڑھا لیتا ہے۔اور جب ایک غریب بہبزار دقت سودی قرضہ اٹھاتا ہے۔تو اس کے جال میں ایسا پھنستا ہے کہ مرتے دم تک اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا اور یہی سودی رو پید اس کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔امیر اس سودی روپے سے ہزاروں ہزار لوگوں کو ہمیشہ کی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور غریب اسے لے کر خود ایسا غلام بنتا ہے کہ کبھی اس سے آزادی حاصل نہیں کر سکتا۔اگر دنیا کے مالداروں کی فہرست بنائی جائے تو اکثر مالدار وہی نکلیں گے جنہوں نے سود کے ذریعہ ترقی کی ہوگی اور اگر دنیا کے غرباء کی فہرست بنائی جائے یا کم از کم یہ تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہندوستان کے غرباء کی فہرست بنائی جائے تو ان کی اکثریت ایسے غریب کسانوں کی ہوگی جن کی غربت رہینِ سود ہوگی۔اسلام نے سود کی وسیع تعریف کی ہے۔جس سے بعض ایسی چیزیں بھی جو عرف عام میں سود نہیں سمجھی جاتیں سود کے دائرہ عمل میں آجاتی ہیں اور وہ سب ناجائز ہو جاتی ہیں۔اسلام کے نزدیک سود کی یہ تعریف ہے کہ ہر وہ کام جس پر نفع یقینی ہو، جس کے کرنے میں خطرات مول نہ لئے جائیں، اس تعریف کی رو سے monopoly a trust یعنی حق تجارت بلا شرکت غیر جائز نہیں ہوگی۔یعنی بڑے بڑے تجار کا یہ سمجھوتہ کہ وہ باہمی مشورہ سے ایک جیسی قیمتیں مقرر کریں گے اور ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کریں گے ناجائز ہوگا۔اس لئے کہ اس کے نتیجہ میں مہنگے داموں اشیاء فروخت کی جاتی ہیں اور حاجتمند ضرورت سے زیادہ قیمت دے کر ان اشیاء کو خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔خریدار گھاٹے میں رہتے ہیں اور ایسے امیر تاجر بڑا نفع کماتے اور بہت امیر ہو جاتے ہیں۔کارٹل یعنی اس قسم کے بین الاقوامی سمجھوتے بھی اس وجہ سے ناجائز ہوں گے۔اسلام نے ان سب چیزوں کو اس لئے نا جائز قرار دیا تھا تا دنیا کی دولت پر کوئی ایک طبقہ قابض نہ ہو جائے۔بلکہ مال تمام لوگوں میں چکر کھاتا رہے۔غرباء کے لئے بھی اپنی اقتصادی حالت درست کرنے کی راہیں کھلی رہیں۔