مضامین ناصر — Page 73
حکومت کا فرض ۷۳ دوم۔اسلام نے حکومت وقت کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ اپنی رعایا میں سے ہر ایک کی ضروریات زندگی پورا کرنا اپنے ذمہ لے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ہی میں ایسے رجسٹر کھولے گئے تھے جن میں رعایا کے اقتصادی کو الف درج کئے جاتے تھے اور جو شخص بھی مالی امداد کا محتاج ہوتا تھا۔حکومت کی طرف سے اس کو امداد پہنچائی جاتی تھی۔اس کے لئے اسلام نے امراء پر بعض جبری ٹیکس لگائے ہیں۔اول زکوۃ کا حکم دیا۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس قدر جائیداد کسی انسان کے پاس سونے چاندی کے سکوں یا اموال تجارت وغیرہ کی قسم میں سے ہو اور اس پر ایک سال گزر چکا ہو۔حکومت اس سے انداز اڑھائی فی صدی جو اقل حد ہے۔سالانہ ٹیکس لے لیا کرے گی۔جو ملک کے غرباء اور مساکین کی بہبودی پر خرچ کیا جائے گا۔یا درکھنا چاہیے کہ یہ ٹیکس صرف آمد پر نہیں لیا جاتا بلکہ سرمایہ اور آمد ہر دو پر لیا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کی مقدار نفع کے پچاس فی صدی تک پہنچ جائے۔اس کے متعلق اسلامی نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ امراء کی دولت میں غرباء کے حقوق اور ان کی محنت بھی شامل ہے۔اس لئے ایک ایسا قاعدہ مقرر کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ہر سال بطور زکوۃ غرباء کا حق امراء سے لے لیا جاتا ہے۔دوسرا جبری ٹیکس اسلام نے خمس کی صورت میں لگایا ہے۔یعنی اس نے کانوں کی پیداوار میں حکومت کا پانچواں حصہ مقرر کر دیا ہے۔اس پیداوار پر اگر ایک سال گزر جائے تو مالکان کو مس کے علاوہ زکوۃ بھی دینی پڑے گی۔مگر چونکہ ان جبری ٹیکسوں سے تمام بنی نوع انسان کی ضروریات پوری نہیں کی جاسکتی تھیں اس لئے ان ضروریات کے پورا کرنے کے لئے اسلام نے طوعی چندوں کا دروازہ کھولا۔تاہر محتاج کی حاجت روائی بھی ہو جائے اور ان طوعی چندوں میں حصہ لینے والے اپنی اخروی زندگی کے لئے زاد راہ بھی جمع کر سکیں۔اسلام کے دور اول میں یہ چندے حسب ضرورت حکومت