مضامین ناصر — Page 48
۴۸ بدر کا زمانہ اور مصلح موعود کا زمانہ چند مشابہتیں وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ اَذِنَّةً فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔( ال عمران : ۱۲۴) بدر کا زمانہ جو چند باتیں میں عرض کر نا چاہتا ہوں ان کا تعلق اسلامی تاریخ میں اس زمانے سے ہے جو بدر کا زمانہ کہلا سکتا ہے جسے بڑے بڑے مؤرخ ایک خاص دور کا نام دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آیا اور اس وقت اس کے پورا ہونے کے اسباب پیدا کئے گئے اور وہ ظاہر ہوئے۔بدر کے میدان میں اور جنگ بدر کے ساتھ اس کا ظہور شروع ہو گیا۔بدر کا زمانہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم زمانہ ہے کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں کفار کی موت اور اسلام کی زندگی کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کیا گیا۔ایک طرف کفار ایک ہزار کا لشکر لے کر اپنے تجربہ کار جرنیلوں اور سرداروں کو لئے ہوئے بغض اور کینہ کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے نکلے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ مسلمانوں کو یہ بھی نہ بتایا جائے کہ ان کا مقابلہ کفار کے لشکر کے ساتھ ہوگا یا کفار کے قافلہ کےساتھ۔چنانچہ قرآن مجید میں اِحدَى الطَّائِفَتَین کا ذکر آتا ہے کہ کفار کے دوگروہوں میں سے ایک کے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو گا۔عام طور پر مسلمانوں کا یہی خیال تھا کہ کفار کا جو قافلہ شام سے مال تجارت لے کر آ رہا ہے۔ہماری مٹھ بھیڑ اس سے ہو گی۔وہ یہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ آج ان تین سو تیرہ صحابیوں کے ذریعہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط اور کفر کو تباہ و برباد کر دے