مضامین ناصر — Page 49
۴۹ گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت بدر کی وادی میں خیمہ زن ہوئے تو اس وقت آپ نے بتایا کہ ہمارا مقابلہ اس لشکر کے ساتھ ہے جو پورے ساز وسامان اور کیل کانٹے سے لیس ہوکر مکہ سے آیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔اے لوگو۔مشورہ دو کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔آپ کے صحابہ کی جان شاری کا ثبوت وہ تقاریر ہیں۔جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ طلب کرنے پر کیں کہ یا رسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے۔ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور اس وقت تک دشمن آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے گا۔جب تک کہ وہ ہماری لاشوں پر سے گزرتا ہوا نہ آئے۔تب خدا کی بات پوری ہوئی اور اگلے دن بدر کے میدان میں ایک ہزار کفار کا مقابلہ تین سو تیرہ مسلمانوں سے ہوا۔اس نازک وقت میں اُن نہتے اور قلیل التعداد مسلمانوں کو ان الفاظ میں آپ نے بشارت دی کہ خوش ہو۔آج مکہ نے اپنے جگر گوشے تمہارے سامنے لا کر ڈال دیئے۔روح تو ان میں پہلے ہی نہیں تھی۔اب ان کے جسم بھی پاش پاش کر دئیے جائیں گے۔چنانچہ چند ہی گھنٹوں میں بدر کا میدان کفار کی لاشوں سے بھرا ہوا تھا اور چوٹی کے سردار جو کفار کے مردہ جسم میں کچھ حرکت باقی رکھ سکتے تھے وہ ہلاک ہو چکے تھے اور قرآن کریم کا دعویٰ سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ( القمر : ۴۶) حرف بحرف پورا ہو چکا تھا۔دونوں زمانوں کی مشابہت جس طرح اسلام کے پہلے دور میں بدر کا زمانہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔اسی طرح اسلام کے دوسرے دور میں مصلح موعود کا زمانہ ایک خاص اہمیت رکھتا اور بدر کے زمانے کے ساتھ مشابہت تامہ رکھتا ہے جس طرح بدر میں کفر کی تباہی اور اسلام کے غلبہ کی بنیا درکھ دی گئی تھی۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے مصلح موعود کے زمانے میں کفر کی تباہی اور اسلام کے غلبہ کے اسباب پیدا کر کے ثابت کر دیا کہ اسلام کے دور ثانی میں یہ زمانہ دور اول کے بدر کے زمانہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔جہاں معنوی لحاظ سے مصلح موعود کا زمانہ بدر کے زمانہ سے مشابہت رکھتا ہے۔میں نے خیال کیا