مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 239

مضامین ناصر — Page 34

۳۴ کے خلاف اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو لگانا۔لغت ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ یہ جہاد کن چیزوں کے خلاف ہونا چاہیے۔لغت کی رو سے شیطانی جہاد بھی جہاد ہے، دنیوی جہاد بھی جہاد ہے اور دینی جہاد بھی جہاد ہے۔اسلامی اصطلاح میں لفظ جہاد کے معنے تو وہی رہتے ہیں جو لغت میں تھے یعنی ان تھک کوشش اور سارے قویٰ کی توجہ اس چیز کی طرف لگا دینا جس کے خلاف جہاد ہورہا ہو مگر اسلامی اصطلاح نے ان چیزوں کو جن کے خلاف دینی جہاد کرنا چاہیے تین میں محدود کر دیا ہے۔نفس، شیطانی تعلیمات اور تلوار کے زور سے مذہبی آزادی کو مٹانے والا دشمن۔جہاد کی تین قسمیں اسلامی اصطلاح میں جہاد کے معنوں پر بحث کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق جہادتین چیزوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔پس یہ تین قسم کا جہاد ہوا۔اول وہ جہاد جو نفس کے خلاف کیا جائے اور اسے اسلامی اصطلاح میں ” جہاد کبر" کہتے ہیں۔دوم وہ جہاد جو شیطان اور شیطانی تعلیموں کے خلاف کیا جائے اور اس کا نام ”جہاد کبیر“ ہے۔سوم وہ جہاد جو دشمن آزادی مذہب کے خلاف کیا جائے اور یہ جہاد اصغر کے نام سے موسوم ہے۔جهاداً كبير مجاہدہ نفس کو خود آنحضرت ﷺ نے جہادا کبر کہا ہے۔حدیث میں آتا ہے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَقَالَ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ (کشاف) یعنی نبی کریم ﷺ ایک جنگ ( غزوہ تبوک) سے واپس لوٹ رہے تھے تو آپ نے فرمایا ہم جہادِ اصغر یعنی جنگ سے واپس آرہے ہیں اور جہاد کبر یعنی مجاہدہ نفس کی طرف جا رہے ہیں۔مجاہدہ نفس تینوں قسم کے جہادوں میں سب سے بڑا اور سب سے افضل ہے اور اسلام نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ جہاد کی ابتدا ء اپنے نفس سے کرو اور جب اس میں ایک حد تک کامیاب ہو جاؤ پھر