مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 239

مضامین ناصر — Page 33

۳۳ نفس امارہ ، شیطان اور اعداء دین۔اسلامی تعلیم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم یا تو نفس امارہ کو مارنے کی تلقین کرتی ہے اور اس جہاد پر بہت زور دیا گیا ہے۔اسی کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے یا يُّهَا الَّذِينَ أَمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة:۱۴) اے مومنو! سب سے قبل تم اپنے نفسوں کی اصلاح کی طرف توجہ کرو اگر تم صحیح راستہ پر قائم ہوجاؤ تو تمہیں دوسروں کی گمراہی کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی۔(اس جہاد کا تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا) اور یا اسلامی تعلیم شیطانی تعلیمات کو دنیا سے مٹانے کی تلقین کرتی ہے تا اسلامی تعلیم دنیا میں قائم ہو جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ المنكر (ال عمران : 1) یعنی تم دنیا میں بہترین امت ہو اس لئے کہ تم سے پہلی امتوں میں سے بعض نے اصلاح نفس تو کی تھی مگر سا راز در رہبانیت پر خرچ کیا تھا۔انہوں نے اپنے نفس کے خلاف تو جہاد کیا تھا مگر شیطانی تعلیمات کو دنیا سے مٹانے کی کوشش نہ کی تھی اور بعض نے دوسروں کو تو خیر کی طرف بلایا تھا اور شیطانی تعلیمات کے خلاف تو جہاد کیا تھا مگر وہ اپنے نفسوں کو بھول گئے تھے۔تم پچھلی سب امتوں سے بڑھ گئے ہو اور سب سے بلند مرتبہ ہو اس لئے کہ تم نے پہلے اپنے نفسوں کی اصلاح کی اور خدا تعالیٰ پر حقیقی ایمان لائے ، ایسا ایمان کہ اس کے بعد رسول کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کئے بغیر تم رہ نہ سکتے تھے۔پھر جب تم مجاہدہ نفس میں کامیاب ہو گئے تو دنیا میں اس لئے نکلے کہ تم شیطان کے خلاف جنگ کرو اور اپنے گمراہ بھائیوں کو راہ ہدایت پر چلاؤ۔لہذا تم خیر الام ہوئے۔پس دوسروں کو ہدایت کی طرف بلانا اور شیطانی تعلیمات کو دنیا سے مٹانے کی پوری کوشش کرنا، یہ دوسری قسم کا جہاد ہے۔پھر تیسری چیز جس کے خلاف اسلام نے جہاد کی تعلیم دی ہے وہ دشمن ہے۔جو تلوار کے زور سے اسلامی تعلیم کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہے۔اسے دشمن کے خلاف بعض شروط کے ساتھ تلوار چلانے کی اجازت دی گئی ہے جن کا ذکر آگے آئے گا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ لغت کی رو سے جہاد کے معنی یہ تھے کہ جس چیز سے بھی جہاد کیا جائے اس