مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 239

مضامین ناصر — Page 168

۱۶۸ اس کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کی محبت کی چنگاری پیدا ہوگی اور اس سے بالآخر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہلوائے گی۔اللہ تعالیٰ ہر آن ثبوت دے رہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔وہ ہماری نا چیز مسائی کے عظیم الشان نتائج پیدا کر رہا ہے پھر بھی اگر ہم میں سے کوئی اس کے اس غیر معمولی سلوک کی قدر نہیں کرتا اور صدمہ کے زیر اثر مایوسی کے گڑھے میں گرتا ہے تو وہ بڑا ہی بد بخت اور بدقسمت ہے۔چونکہ صدمہ اور غم کے اوقات اکثر انسان پر آتے رہتے ہیں اور ان کا آنا حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس امر کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ ایسے اوقات کو کس طرح بسر کرنا چاہیے۔اس نے واضح طور پر بتایا ہے کہ جب کو ئی مصیبت یا غم کا موقع ہوتا ہے تو مومن کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے اور برخلاف اس کے ایک منافق کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔جہاں تک مومنوں کے طر یہ عمل کا تعلق ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ (البقرة: ۱۵۷) مومن وہ لوگ ہیں کہ جب بھی اُن پر کوئی مصیبت آئے (تو وہ دل برداشتہ نہیں ہوتے بلکہ ) کہتے ہیں ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔یعنی وہ ایسے صدمہ اور مصیبت کے وقت میں محض قال سے ہی نہیں بلکہ اپنے حال سے پکارتے ہیں کہ ہم سب اللہ ہی کے لئے ہیں۔ہمارے اگلے اور پچھلے، ہمارے چھوٹے اور بڑے، وہ لوگ جو ہمارے ممنونِ احسان ہیں یا جن کا ہم پر احسان ہے وہ سب خدا ہی کی طرف سے آئے اور اسی کی مرضی اور ارادہ کے تحت انہوں نے اس جہان کو چھوڑا اور ہم خود بھی اسی کے حکم اور ارادہ کے ماتحت ایک مقررہ وقت پر اس جہان کو چھوڑ کر اس کے پاس واپس لوٹنے والے ہیں۔سو گویا مومن صدمہ اور غم کے وقت گھبراتے یا پریشان نہیں ہوتے بلکہ ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔خدا کی مرضی اور ارادہ سے ہی ہو رہا ہے اور بالآخر اسی میں ہماری بہتری کا سامان مضمر ہے۔اس لئے وہ ہر حال میں الحمد للہ کہتے ہیں اور انجام کار بہتری اور بھلائی اور فلاح ونجاح کے امیدوار رہتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کر کے دعاؤں میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ خدا اپنے فضل سے اس صدمہ یا مصیبت کو دور کر