مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 169 of 239

مضامین ناصر — Page 169

۱۶۹ کے ان کے لئے فضل اور رحمت ، امن اور سکون ،ترقی اور خوشحالی کی گھڑیاں بھیج دے۔مومن ہر حال میں جنت میں ہی ہوتا ہے اور ہر دم اور ہر آن للہیت کا ہی نعرہ لگاتا ہے۔وہ اس جہان میں بھی جنت میں ہوتا ہے اور اگلے جہان میں بھی اسے جنت ہی ملتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ چونکہ یہ دنیا دارالا بتلاء ہے اس لئے اللہ تعالیٰ مومنوں کو کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہم تمہیں جنت کی جو جھلک دکھاتے ہیں اس میں راحت و آرام کے ساتھ کچھ ٹیسیں بھی ہوں گی اور کچھ درد کی کسک بھی۔لیکن تمہارا کام یہ ہے کہ تم ان عارضی ٹیسوں اور درد کی کسک میں بھی للہیت کا نعرہ بلند کرو اور کہو کہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ یعنی ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں اگلے جہان میں ایسی جنت ملے گی جس میں کوئی دکھ، کوئی در داور کوئی ٹیں نہیں ہوگی اور یہی وَاِنَّا اِلَيْهِ رُجِعُونَ کا مطلب ہے۔انا للہ سے مراد یہ ہے کہ مومن کبھی دل برداشتہ اور مایوس نہیں ہوتا بلکہ صدمہ، دکھ اور مصیبت کو خدا تعالی کی طرف سے ایک عارضی امتحان تصور کر کے اس پر صبر کرتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری مستعدی کے ساتھ ادا کر کے کامیابی کے لئے خدا ہی کی طرف رجوع کرتا اور اسی سے امداد کا طالب ہوتا ہے۔اس کے نتیجہ میں نہ صرف اس دنیا میں صدمہ، دکھ اور مصیبت کی گھڑیاں ٹل جاتی ہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی وہ کبھی نہ ختم ہونے والے سکھ چین اور امن و آسائش کا حقدار بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ اس دنیا سے اُس دنیا کی طرف جاتے ہوئے اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتے تھے جتنی ہم ایک کمرہ سے اٹھ کر دوسرے کمرہ کی طرف جانے میں محسوس کرتے ہیں۔پوری بشاشت کے ساتھ اس انتقال مکانی کا خیر مقدم کرنا ان کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا چنانچہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ مٹھی بھر صحابہ نے لاکھوں کے لشکر کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور ان کی صفیں کی صفیں اس طرح کاٹ کر رکھ دیں جس طرح گاجر مولی کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔وہ ہنسی خوشی جام شہادت نوش کرنے میں ایک راحت محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اپنے عمل سے انا للہ کا تقاضا پورا کرنے کے بعد وَ إِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کے خدائی وعدہ کے تحت ابدی جنت ہمارا انتظار کر رہی ہے۔