مضامین ناصر — Page 167
۱۶۷ فیضیاب ہو کر تم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو گے۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب اور آپ کی اقتداء بھی وہی اثر اور وہی فیض اپنے اندر رکھتی ہے اور آپ کے فیض سے سب سے زیادہ چمکنے والے ستارے حضور علیہ السلام کی مبشر اولا دہی ہے جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے محبت کا بیج بویا۔اس محبت الہی کے طفیل ان سے ہم نے پھل پایا اور راہنمائی حاصل کی۔یہ امران کے رفیع الدرجات ہونے پر دال ہے۔حضور علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک درخشندہ گوہر تھے۔اُن کی رحلت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی محبت کا ایک درخت یہاں سے کاٹ کر جنت میں لگا دیا گیا ہے اور ہم اس درخت اس کے عافیت بخش سائے اور اس کے شیر میں پھلوں سے محروم ہو گئے ہیں۔اس محرومی پر ہمارا افسردہ اور غمزدہ ہونا ناگزیر ہے لیکن اس صدمہ میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں اب بدرجہ اولیٰ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک خود آسمان روحانیت کا ستارہ بنے جس سے دوسرے لوگ رہنمائی حاصل کریں۔ایک دنیا ابھی تک گمراہی کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔خدا کی بیشمار مخلوق ہے جسے ہم نے راه راست پر لانا ہے اور کتنی ہی سعید روحوں کو خدا کی محبت کا پانی پلا کر انہیں اس کے آستانے پر جھکانا ہے۔غم کی موجودہ کیفیت میں ہمیں اپنا عزم بلند رکھنا چاہیے اور گھبرانا نہیں چاہیے۔اور گھبرانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ہمارا سارا بھروسہ اور تو کل ہمارے اپنے حسی و قیوم اور قادر وتوانا خدا پر ہے۔ہمارا خدا ایسا علیم وخبیر اور قادر وقد وس خدا ہے کہ اس کمرہ میں ہوا کی جو لہریں اٹھ رہی ہیں اسے نہ صرف ان کا علم ہے بلکہ وہ اس کے ارادہ اور منشاء کے تحت ہی وقوع پذیر ہورہی ہیں۔کوئی پتہ بھی اس کے علم ، ارادے اور اذن کے بغیر نہیں ہلتا۔کوئی شخص فوت نہیں ہوتا جب تک خدا کا منشاء نہ ہو۔پس حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کام پورا کر کے خدا کے منشاء کے مطابق ہی ہم سے جدا ہوئے ہیں۔ہم غمگین ضرور ہیں لیکن مایوس یا فکر مند ہر گز نہیں اس لئے کہ خدا نے خود کہا ہے کہ یہ جماعت ساری دنیا میں پھیلے گی اور روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے ہر انسان کے دل میں