مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 239

مضامین ناصر — Page 10

منافقین کا نیا فتنہ اور اس کے متعلق قرآن شریف کی شہادت اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا (النساء : ۱۴۶) ایسے کچھ بگڑے کہ اب بننا نظر آتا نہیں آہ کیا سمجھے تھے ہم اور کیا ہوا ہے آشکار ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) شیطان کے حملے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر موجودہ زمانہ تک یعنی جب سے کہ اسماء الہی کی تجلی دنیا میں ظاہر ہونی شروع ہوئی ہے اس وقت سے آدم ثانی کے ظہور تک شیطان بھی اپنی ساری فوجوں سمیت اپنے شیطانی کاموں میں ہمہ تن مشغول رہا ہے اور مشغول ہے۔وہ کونسا حربہ ہے جو ابلیس نے نہ اٹھا رکھا ہو۔وہ کبھی سامنے سے مخالفانہ رنگ میں حملہ کرتا ہے کبھی پیچھے سے منافقت کی نقاب میں چھپتا ہوا حملہ آور ہوتا ہے۔وہ کبھی دائیں سے حملہ کرتا اور ہمیں اعمالِ صالحہ سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔کبھی بائیں جانب سے حملہ کرتا اور اَعْمَالِ سَيِّئَه کی ترغیب دیتا ہے اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا خبیث کا طیب سے فرق کیا جائے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو اور باوجود انتہائی کوششوں کے شیطان اپنی آخری جنگ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت سے اسے کرنی تھی بُری طرح پسپا ہو۔اسلام، ہدایت اور روشنی پوری شان سے دنیا پر حکومت کریں اور کفر گمراہی اور تاریکی دور ہو۔وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير۔سنو ابلیس مختلف طریقوں سے ایمان پر حملہ آور ہوتا ہے اور گونا گوں رنگوں سے وہ انسان کے سامنے آتا اور قرب الہی اور رضائے الہی کے راستہ کو اس کے لئے مسدود