مضامین ناصر — Page 132
۱۳۲ گھر کی حرمت حرمت کعبہ کے ساتھ ساتھ اسلام نے ہر گھر کو ایک حرمت عطا کی ہے۔انسان کا گھر ایک قلعہ ہے جس پر خدائی احکام کے پہرہ دار پہرہ دے رہے ہیں۔اسلام نے اس طرح امیر وغریب کے ایک اور غلط فرق کو مٹا دیا ہے۔مگر کام کی ان باتوں کو ہم اکثر بھول جاتے ہیں حالانکہ ان کے بغیر ہم اُن مکارم اخلاق کے حامل نہیں ہو سکتے جنہیں اسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری بعثت کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ میں اخلاق اور آداب کی تعمیل کروں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان باتوں کو کبھی فراموش نہ کریں، ہمیشہ اس پر عمل پیرا ہوں تا دنیا ہمیں ایک مہذب ترین عاشق رسول ہی کی حیثیت سے دیکھے اور پہچانے۔(1) پہلا حکم یہ دیا کہ دوسروں کے گھروں میں اپنا تعارف کرائے اور گھر والوں کی اجازت حاصل کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو کہ اس سے بہت سے دنیوی فسادات اور جھگڑے مٹ جائیں گے اور انسان بہت سے ایسے مواقع سے بچ جائے گا جن کی وجہ سے وہ انتہام کا نشانہ بن سکتا ہو کہ یہ چوری یا بدنظری کی غرض سے آیا ہے۔نیز بہت سوں کو بدظنی کے مواقع سے بچائے گا اور آپس کے تعلقات میں کشیدگی پیدا نہ ہوگی۔(۲) اجازت کا یہ طریق بتایا کہ اپنا تعارف کراتے ہوئے گھر والوں کو سلام کر وا گر وہ سلام سن کر اور تمہیں پہچاننے کے بعد اندر آنے کی اجازت دے دیں تو ان کے گھروں میں جاؤ ورنہ واپس لوٹ آؤ۔احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ سلام کہنا ضروری ہے، دروازہ کھٹکٹا نایا گھروں کو آواز دینا کافی نہیں۔احادیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اگر پہلے سلام پر جواب نہ ملے تو وقفہ وقفہ کے بعد تین دفعہ سلام کہنا چاہیے اور اگر پھر بھی جواب نہ ملے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ گھر والے کسی کام میں ایسے مشغول ہیں کہ سلام