مضامین ناصر — Page 131
۱۳۱ بنصرہ العزیز نے اپنے بچوں کی آمین کے طور پر ایک نظم لکھی ہے جو کلام محمود میں چھپی ہوئی ہے اس کا ایک شعر مجھے بہت پیارا لگتا ہے اور وہ یہ ہے۔برائی دشمن کی بھی نہ چاہیں ہمیشہ خیر ہی دیکھیں نگاہیں یعنی خدایا میرے بچوں کو ایسا بنا کہ ان کی نگاہ کسی کے عیب پر کبھی نہ جائے ، ہمیشہ دوسروں کی خوبی ان کے سامنے آئے۔یہ بڑی ہی پیاری تعلیم ہے۔اس تعلیم کو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔جب ہمیشہ اپنے بھائیوں کی خوبیوں پر ہی ہماری نظر پڑے گی تو ہمارے اپنے اندر بھی وہ خوبیاں پیدا کرنے کا جذ بہ ابھرے گا۔اس طرح ہمارے بھائیوں کی خوبیاں ہماری ترقی کا باعث بن جائیں گی۔بھائیوں کی عیب چینی کبھی ہماری ترقی کا باعث نہیں بن سکتی۔ہاں اُن کی خوبیاں اگر ہم ان کو خوشی اور پسندیدگی کے جذبات سے دیکھیں ہمارے لئے کامیابی اور فلاح کا دروازہ کھول سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں غیبت اور عیب چینی کی بد عادتوں سے بچائے اور ہمیں دوسروں کی خوبیاں دیکھ کر خود اپنے اندروہی خوبیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا کرے۔آمین (ماہنامہ انصار اللہ جنوری ۱۹۶۱ء صفحه ۲۵ تا ۳۳) ☆☆