مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 133 of 239

مضامین ناصر — Page 133

۱۳۳ کی آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی۔پس تمہیں چاہیے کہ اس صورت میں دوسروں کے کاموں میں حارج نہ ہو اور واپس چلے آؤ، یہ نہیں کہ پھر بیسیوں سلاموں کی بھر مار کر دو کیونکہ تمہارے معاشرہ کی اسی میں بھلائی ہے اور نیکی کی یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی مل کر تزکیہ نفس کیا کرتی ہیں۔(۳) اگر تمہار اسلام سن کر صاحب خانہ یہ جواب دے کہ اس وقت فرصت نہیں ، ملنے سے معذور ہوں تو تمہیں چاہیے کہ تم واپس چلے جاؤ اور ملاقات پر اصرار نہ کرو اور دھرنا مارکر نہ بیٹھ جاؤ کہ ہم تو ملاقات کر کے ہی جائیں گے صاحب خانہ کا یہ جواب اسلام کی نگاہ میں کوئی بداخلاقی نہیں کیونکہ وہ اپنے گھر کا مالک ہے اور اپنے حالات اور مشاغل کو خوب جانتا ہے۔اور تم نہیں جانتے کہ وہ کس قدر ضروری کاموں میں مصروف ہے۔البتہ اگر تم ملاقات کے لئے دھرنا مار کر بیٹھ جاؤ گے تو یہ تمہاری پاکیزگی اخلاق کے خلاف ہوگا اور بداخلاقی کا ایک معیوب مظاہرہ اس نکتہ کو نہ سمجھتے ہوئے ہم نے بہتوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ”جی فلاں شخص بہت ہی بداخلاق ہے ہم اس کی ملاقات کو اس کے گھر گئے مگر اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تو بداخلاق نہیں البتہ تمہاری ذہنیت بداخلاقی کی غمازی کر رہی ہے۔(۴) اگر صاحب خانہ گھر پر موجود نہ ہو تو گھر والوں کی غیر حاضری میں ان کے گھر میں نہ جاؤ اور مواقع اتہام سے بچو اور مواقع سوءظن سے دوسروں کو بچاؤ ،سوائے اس کے کہ گہرے تعلقات کی بنا پر یا کام کی اہمیت کے پیش نظر صاحب خانہ نے تمہیں پہلے سے اپنی غیر موجودگی میں اپنے گھر میں انتظار کرنے کی اجازت دی ہو۔(۵) اگر کوئی گھر مستقل یا عارضی طور پر غیر آباد ہو اور وہاں کسی کی سکونت نہ ہو تو ایسے گھروں میں بھی مالک کی اجازت کے بغیر مت داخل ہو کہ تمہارا یہ عل بھی بعض معاشرتی الجھنوں کا باعث بن سکتا ہے۔(1) اگر گھر غیر آباد ہوں مگر عملاً تمہارے قبضہ میں ہوں اور اُن میں تمہارا کوئی سامان پڑا ہو تو ایسے گھروں میں خود اپنی ہی مرضی سے جاسکتے ہو مگر یہ کبھی نہ بھولنا کہ تمہارے ظاہر و باطن کو خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور یہ پابندیاں تمہیں تکلیف میں ڈالنے کے لئے نہیں لگائی گئیں۔یہ ہدا یتیں تو اس