مضامین ناصر — Page 206
آرہی ہیں۔ع جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا دوسری طرف اس نے ایک ایسا وجود پیدا کیا جو ان چیزوں کے استعمال میں خدائی صفات کو بطور نائب خدا بروئے کارلائے اور اس طرح پر پیدائش عالم کے دونوں سروں پر خدا تعالیٰ کی صفات جلوہ نما ہوں۔اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ان تمام جہانوں کا اصل اور حقیقی مالک تو خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور جس کے قبضہ ء اقتدار سے وہ باہر نہیں۔لیکن اس ملکیت کو اس نے ایک طور پر اور نیابت کے رنگ میں آگے بحیثیت مجموعی انسان کے سپرد کیا ہے۔پس اسلامی اصول کے لحاظ سے ملکیت دو قسم کی ہے۔اصل اور حقیقی ملکیت تو خدا تعالیٰ کی ہے مگر ظلی ملکیت اور تنفیذ ی حکومت بطور نائب کے بنی نوع انسان کی ہے۔پس چونکہ ملکیتیں دوستم کی ہیں حقیقی اور خالی اس لئے آگے نائب بنانے کے بھی دو ہی طریق ہو سکتے ہیں۔ایک تو حقیقی مالک کا بنایا ہوا نا ئب ہوگا یعنی نبی اللہ اور ایک وہ نائب ہوگا جسے بنی نوع انسان نے اپنا نائب بنایا ہو یعنی حاکم وقت مگر اسلام نے نیابت کی ایک تیسری صورت بھی پیش کی ہے اور وہ دونوں قسم کے مالکوں کی مشترکہ نیابت پر دلالت کرتی ہے اور اسی کو اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کہتے ہیں۔ایک جہت سے وہ مالک حقیقی کا بنایا ہوا نا ئب ہوتا ہے اور ایک جہت سے وہ فلمی مالکوں یعنی بندوں کا تسلیم کردہ حاکم ہوتا ہے۔پس خلافت کے متعلق اسلامی نظریہ یہ ہے کہ خلیفہ بنا تا تو خود خدا ہی ہے لیکن اس انتخاب یا تعیین میں وہ امت مسلمہ کو بھی اپنے ساتھ شریک کرتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انتخاب بالواسطہ ہوتا ہے اور یہ واسطہ وہ امت مسلمہ ہے جو مضبوطی کے ساتھ اپنے ایمانوں پر قائم اور اپنے ایمان کے مطابق اعمال صالحہ بجالانے والی ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے دلوں پر تصرف کر کے اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق خلیفہ کا انتخاب کرواتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ جب خلیفہ کا انتخاب امت مسلمہ کی رائے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہو چکے تو پھر امت مسلمہ کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ اس خلیفہ کو اپنی مرضی سے معزول کر سکے۔اس لئے کہ یہ ایک مذہبی انتخاب تھا جو اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی کے ماتحت کیا گیا اور اس انتخاب میں