مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 239

مضامین ناصر — Page 205

۲۰۵ خلافت اسلام کا دعویٰ ہے کہ انسانی پیدائش کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا وجود دنیا میں پیدا کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہو اور صفات الہیہ کو ظاہر کرنے والا ہو۔چنانچہ فرمایا انّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة: ۳۱) یعنی انسانی پیدا کس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ کہا کہ میں دنیا میں ایک ایسی مخلوق پیدا کر نے لگا ہوں جو میری نمائندہ ہوگی اور میری صفات کی مظہر ہوگی۔اس طرح ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں یہ فرمایا هُوَ الَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَّيْفَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كفرة (الفاطر: ۴٢٠) یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے تم کو دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے اور تم میں یہ قوت اور طاقت رکھی ہے کہ اگر تم چاہو تو اس کی صفات کا مظہر بن سکتے ہواور یہ ایک بہت بڑا مرتبہ ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔پس جو شخص اس مرتبہ کی قدر نہیں کرے گا اور اپنے اعمال کو اس کے مطابق نہیں بنائے گا اُسے اپنی اس غفلت کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا کہ تَخَلَّقُوا بِاَخلاقِ الله یعنی اے مسلمانو! صفات الہیہ کو اپنے اندر پیدا کرو۔پس انسانی پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ پیدائش عالم کا صحیح مقصد حاصل ہو اور اس کے دونوں سروں پر خدا تعالیٰ کی صفات جلوہ گر ہوں۔پیدائش کے ایک سرے پر تو ہمیں صفات الہیہ کا ایک طبعی ظہور اس کے بنائے ہوئے قوانینِ قدرت میں نظر آتا ہے۔اس نے اپنی صفات کے طبعی ظہور سے عالمین کو پیدا کیا ،سمندر بنائے ، دریا جاری کئے ، جزیروں کو پیدا کیا، پہاڑ بنائے۔اس کی قدرت نے زمین کے اندر مختلف قسم کی کانیں پیدا کیں پھر نباتات کی ایک وسیع دنیا معرض وجود میں آئی۔قسما قسم کے درخت اور بوٹیاں اگائیں اور ہر قسم کے غلہ وغیرہ کو پیدا کیا۔پس پیدائش عالمین کی وسعتوں اور اس کی گہرائیوں میں خدائی صفات کارفرما نظر