مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 239

مضامین ناصر — Page 176

کے دلوں میں غلامی کا خیال پیدا نہیں ہو سکتا“۔(الفضل ۱۳ راپریل ۱۹۳۸ء) یا درکھو کہ جب کسی قوم کے نو جوانوں میں یہ روح پیدا ہو جائے کہ اپنے قومی اور مذہبی مقاصد کی تعمیل کے لئے جان دے دینا وہ بالکل آسان سمجھنے لگیں اس وقت دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں مارسکتی۔(الفضل ۱۷ را پریل ۱۹۳۹ء) پس خدام الاحمدیہ کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ممبروں میں قو می اور ملی روح پیدا کریں۔پس اپنی زندگی میں جنت کی کیفیات پیدا کرو اور باہم تعاون کے ساتھ رہو۔۔۔جماعتی نظام کو نمایاں کرو اور شخصی وجود کو اس کے تابع رکھو۔اور ہمیشہ اس اصول پر کار بندر ہو کہ ”جہاں میری ذات کا مفاد میری قوم کے مفاد سے ٹکرائے وہاں قومی مفاد کو مقدم کروں گا اور اپنی ذات کو نظر انداز کروں گا“۔(الفضل ۱۷ار اپریل ۱۹۳۹ء) ایسا پروگرام بناؤ کہ جماعت کے نو جوان اسلامی تعلیم سے زیادہ سے زیادہ واقفیت پیدا کریں۔دینی و دنیوی علوم کو عام کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو پڑھا لکھا نہ ہو۔اس سے ذہن صیقل ہوں گے اور اخلاق بلند۔پس قرآن کریم با ترجمہ پڑھنے پڑھانے کا انتظام کرو اور قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کرنا اپنے پروگرام کا خاص (الفضل اراپریل ۱۹۳۸ء) یہ بھی یا درکھو کہ علم گدھوں کی طرح کتابیں لاد دینے سے نہیں آجا تا۔آوارگی کو دور کرنے سے حصہ بناؤ“۔علم بڑھتا ہے اور ذہن میں تیزی پیدا ہوتی ہے“۔(الفضل اار مارچ ۱۹۳۹ء) پس آپ کا فرض ہے کہ خدام ، اطفال سے آوارگی کو دور کریں اور اپنے رہن سہن میں وقار کو قائم کریں اور شرم اور حیا سے اپنی زندگیاں گزار ہیں۔کوئی احمدی خادم یا طفل گلیوں میں مارا مارا نہ پھرے، گالیاں نہ دے اور ایک دوسرے کی گردن میں باہیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نہ دیکھا جائے کہ یہ سب باتیں وقار اور اسلامی آداب کے خلاف ہیں۔ورزش بے شک کرو کہ ورزش انسان کے کاموں کا حصہ ہے۔ہاں گلیوں میں بے کار پھرنا،