مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 239

مضامین ناصر — Page 175

۱۷۵ بھائیوں کو جن کا صدر میں ایک لمبا عرصہ تک رہ چکا ہوں۔آپ کی اسی بنیادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا نا اپنا اولین فرض سمجھتا ہوں۔تا ایسا نہ ہو کہ دنیا آپ کو اپنے آقا کا بے وفا خادم یا اپنے روحانی باپ کی ناخلف اولاد سمجھے۔پس یاد رکھیں کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک فقال جماعت، ایک فدائی جماعت، ایک ایثار اور قربانی کرنے والی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں۔جو یہ نہ بجھتی ہو کہ زبان کے رس میں ہی ساری کامیابی ہے کیونکہ اصل چیز باتیں کرنا نہیں بلکہ کام کرنا ہے۔(الفضل ۱۰ راپریل ۱۹۳۸ء) پس اپنے دلوں میں سے ہر قسم کی نمود کا خیال مٹا کے محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور فخر و مباہات کے خیالات سے پاک ہو کر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کرو اور دنیا کے لئے ایک نیک مثال قائم کرو اور آپ میں سے ہر ایک یہی خیال کرے کہ میں ہی احمدیت کا ستون ہوں۔اگر میں ذرا بھی ہلا اور میرے قدم ڈگمگائے تو جماعتی نظام اور امام ہمام کے ارشادات کی چھت کو نقصان پہنچے گا۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو کہ ایمان انسان کی جوانی کو بڑھا تا اور حوصلوں کو بلند کرتا ہے۔پس مایوسی کے خیالات اپنے دل میں نہ آنے دو اور اپنے حوصلے کو بلند رکھو۔اور یہ عزم اور ارادہ لے کر کھڑے ہو کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا اور اندھیرے میں بھٹکتی ہوئی دنیا کو اس قادر و توانا کی معرفت سے مالا مال کرنا ہے۔اسلام کا کامل نمونہ بن کر حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔پھر تمہیں ذاتی نصرت بھی حاصل ہوگی اور طفیلی بھی۔حضور ( مصلح موعود ) فرماتے ہیں کہ : و ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس وقت ایک ذہنی آزادی عطا کی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ہم میں سے ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اُس وقت زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن بہر حال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہوسکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔اگر ہم اس خیال کو جماعت کے افراد کے ذہنوں میں پورے طور پر زندہ رکھیں اور اسے مضبوط کرتے چلے جائیں تو ایک منٹ کے لئے بھی ہماری جماعت کے نوجوانوں