مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 239

مضامین ناصر — Page 177

122 بیٹھے باتیں کرنا اور بخشیں کرنا آوارگی ہے اور ان کا انسدا دخدام الاحمدیہ کا فرض ہے۔یہ بھی نہ بھولو کہ ”نماز کے بغیر اسلام کوئی چیز نہیں“۔(الفضل ۲۲ /اپریل ۱۹۳۸ء) نماز اور باجماعت نماز اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ایک خاص فضل ہے۔( الفضل ۲۳ را پریل ۱۹۴۱ء) پس نمازوں کو ان کی شرائط کے ساتھ ادا کرو اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنو۔”سچائی کو اپنا معیار قرار دو“۔(الفضل، ار ا پریل ۱۹۳۸ء) کہ سچ کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے“۔( الفضل ۲۲ را پریل ۱۹۳۹ء) اور دیانت کو اپنا شعار بناؤ کہ ” بہترین اخلاق جن کا پیدا کرنا کسی قوم کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے وہ سچ اور دیانت ہیں۔جس قوم میں سچ پیدا ہو جائے اور جس قوم میں دیانت آ جائے وہ قوم نہ کبھی ذلیل ہو سکتی ہے اور نہ کبھی غلام بنائی جاسکتی ہے۔سچائی اور دیانت دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کوذلیل بناتا اور ان دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو غلام بنا تا ہے“۔پس نو جوانوں میں قومی دیانت ،تجارتی دیانت اور اخلاقی دیانت پیدا کرو کہ ”جس قوم میں قومی دیانت بھی ہو تجارتی دیانت بھی ہو اور اخلاقی دیانت بھی ہو وہ قوم تو ایک پہاڑ ہوتی ہے۔۔۔۔اور وہ دنیا کے لئے ایک تعویذ ہو جاتی ہے“۔(الفضل ۱۵/ مارچ ۱۹۳۹ء) اگر سچ اور صداقت اپنی وسعتوں کے ساتھ تمہیں اپنی حفاظت میں لے لے، اگر دیانت اپنی سب اقسام میں تمہارے وجودوں میں اپنے کمال کو پہنچ جائے تو تم میں غدار کبھی پیدا نہیں ہوں گے اور تمہارا ہر فر دموت کو غداری پر ترجیح دے گا۔اپنے ذہنوں کو جلا دو اور اپنی ذہانتوں کو تیز کرو اور واقعات کی دنیا میں قیاسات سے کام لینا چھوڑ دو کہ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کے نتیجہ میں افراد کا ذہنی ارتقاء مارا جاتا ہے۔یادرکھو کہ سچا ایمان اور سچا اخلاص اعلیٰ توجہ اور فراست و ذہانت پیدا کرتا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”ہمارے نو جوانوں کو ذہین بننا چاہیے اور ان کی نظر وسیع ہونی چاہیے، وہ جب بھی