مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 239

مضامین ناصر — Page 166

۱۶۶ دیتی ہے۔لیکن انسان بالطبع قریب ترین صدمے سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔جب بھی اس کا کوئی قریبی ہمدرد غمخوار، مشورہ دینے والا اور ہر موقع پر احسان کرنے والا وجود اس سے جدا ہو جاتا ہے تو اس کا دل درد محسوس کرتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ صدمہ اس کے لئے نا قابل برداشت ہے۔حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتا کہ یہ صدمہ آنحضرت عیﷺ اور پھر آپ کے نائب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے صدموں کے آگے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔جب ایسے ایسے وجود باجود دنیا سے چلے گئے تو پھر اور کون ہے جو دنیا میں ہمیشہ ہمیش باقی رہ سکتا ہے۔اصل حقیقت یہی ہے کہ کسی محسن کی وفات پر صدمہ ضرور ہوتا ہے لیکن انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ اس صدمہ میں گھلنے اور اسی میں غلطاں و پیچاں رہنے کی بجائے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصیحت کے مطابق ان نئی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہو جو اس محسن کی وفات کی وجہ سے اس پر عائد ہوتی ہیں اور ان کی بجا آوری میں ہی اطمینانِ قلب اور رضائے الہی کو تلاش کرے۔آج قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی وجہ سے ہم پھر ایک عظیم صدمہ سے دو چار ہیں۔ہمارے دل خون کے آنسو رو ر ہے ہیں اور ان کے احسانات اور ان کے کارنامے یاد آ آکر ہمیں بے چین کئے دے رہے ہیں۔اس صدمہ کی وجہ سے ہمارا غمگین اور اداس ہونا ایک قدرتی امر ہے لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ ہمیں اس صدمہ کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ سوچنا یہ چاہیے کہ اب ہماری ذمہ داریوں میں پہلے کی نسبت اضافہ ہو گیا ہے اور ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کر کے رضائے الہی حاصل کریں۔اس میں شک نہیں کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہونے کے باعث بہت عظیم المرتبت اور رفیع الدرجات تھے۔آنحضرت معہ کا فرمان ہے کہ أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔ان میں سے تم جس کی بھی اقتدی کروگے ہدایت پا جاؤ گے۔مراد یہ ہے کہ جس طرح ستاروں سے جہت معلوم کی جاتی اور صحیح راہ اختیار کی جاتی ہے اسی طرح میرے صحابہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہ بتائیں گے اور ان سے