مضامین ناصر — Page 165
۱۶۵ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں آنحضرت عے کی سب سے زیادہ محبت تھی اور انہوں نے آنحضور پر اپنا سب کچھ قربان کر دکھایا تھا۔دل میں سب سے زیادہ محبت کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ روشنی بھی حضرت ابو بکر ہی کے دماغ میں تھی۔آپ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف یہ نہیں سکھایا کہ محمد رسول اللہ (محمد خدا کے رسول ہیں ) بلکہ اس نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا الله یعنی یہ کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔آنحضرت عﷺ بھی دوسرے نبیوں کی طرح انسان ہی تھے اس لئے وہ اپنا مشن پورا کر کے دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہو گئے۔اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے تم زندہ خدا کے ساتھ تعلق پیدا کر چکے ہو جو کبھی نہیں مرتا۔اس میں شک نہیں صدمہ بے حد ہے اور دل حد درجہ اداس ہیں لیکن تم حتی و قیوم خدا پر ایمان رکھتے ہو تمہیں جدائی کے صدمہ کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔یعنی یہ سوچنا چاہیے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد اب خدا ہم سے جو کام لینا چاہتا ہے ہم وہ بدل و جان انجام دیں اور اس کے حضور میں سرخرو ٹھہریں۔پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کا صدمہ کوئی ایسا صدمہ نہیں جو صرف آپ کے صحابہ اور آپ کے زمانہ ہی کے لوگوں تک محدود تھا۔آپ کا وجود قیامت تک کے لئے فیض رساں وجود ہے۔آپ کی ذات والا صفات جس طرح اس زمانہ کے لوگوں کے لئے فیض رسانی کا باعث تھی اسی طرح ہمارے لئے بھی فیض رسانی کا باعث ہے جس وقت بھی ہمارے دلوں میں حضور کے وصال کی یاد تازہ ہوتی ہے ہمارے دل بھی درد کی کسک محسوس کئے بغیر نہیں رہتے اور ہم غم میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعو علیہ السلام اپنے آقا و مطاع آنحضرت علﷺ کے ساتھ کمال درجہ عشق اور آپ کی کمال درجہ اطاعت کے باعث آپ میں اس درجہ فنا ہو گئے تھے کہ آپ میں اور آپ کے آقا میں کوئی مغائرت باقی نہیں رہی تھی۔اسی لئے آپ نے فرمایا۔مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَمَا رَأَى - حضرت مسیح موعود کے اس مقام فنافی الرسول کی وجہ سے ہی آپ کے وصال کے خیال سے بھی ہمارے دل تڑپ اٹھتے ہیں۔یہ دونوں صدمے انتہائی شدید صدمے ہیں اور گاہے گاہے ان کی یاد اجاگر ہو کر ہمیں تڑپا