مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 239

مضامین ناصر — Page 149

۱۴۹ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الـداریـت: ۵۷) یعنی جن وانس کی آفرینش کا مقصد وحدہ لاشریک کی پرستش ہے۔خدا تعالیٰ ہر قسم کی طاقت کا مالک ہے وہ قادر مطلق ہے۔اگر چاہتا تو ہر انسان کے اندر ایسا مادہ رکھ دیتا جو ہمیشہ انسان کو اسی کی یاد میں محو کئے رکھتا جیسا کہ اس نے فرشتوں کے ساتھ کیا۔مگر اُس نے انسان کے ساتھ ایسا نہیں کیا بلکہ اُس نے انسان کے اندر مختلف قسم کی طاقتیں پیدا کر کے اسے اختیار دے دیا کہ خواہ وہ بُرائی کی طرف چلا جائے اور خواہ وہ اپنی اصلاح کر کے نیکی کا راستہ اختیار کرے۔گویا وہ انسان کو دونوں قسم کی قو تیں عطا کر کے پھر یہ کہنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو مقصدِ حیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مولائے حقیقی کی طرف مائل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، وہ صرف اصول مقرر کر کے اور ہمارے لئے راہ ہدی ہی متعین کر کے خاموش نہیں ہور ہا بلکہ اس نے انبیاء کی رسالت سے ہر زمانہ میں اصول ہدایت کی تجدید کا بندوبست کر دیا ہے۔نبی یا مصلح دنیا میں آکر لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتا ہے، چنانچہ اس کی آواز پر صرف وہی روحیں لبیک کہتی ہیں جو مادہ بد کو مغلوب کر کے مادہ خیر کے تابع ہو جاتی ہیں۔اس زمانہ میں جبکہ دنیا اپنی گمراہی اور ضلالت کی انتہا تک پہنچ چکی ہے اُس ارحم الراحمین خدا نے ہم پر اپنا فضل فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور ہم کو اس خدائی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی اور وہ ہے اس خدائی آواز کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا کر بنی نوع انسان کو حلقہ بگوش اسلام بنانے کی ذمہ داری۔اس ذمہ داری کی ادائیگی اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ ہم ہر حال میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عزم کر لیں ، مال و دولت کی محبت ، اولاد سے پیار، دنیا کی بے جا آرام طلبی، جھگڑے اور فساد اس راہ میں حائل ہوں گے اور چاہیں گے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں مگر آپ ان چیزوں کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اپنے اُس عہد کو پورا کریں جو بیعت کے وقت آپ نے کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ