مضامین ناصر — Page 150
السلام فرماتے ہیں: ۱۵۰ ”دیکھو! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔نہیں۔صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔انھوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کردے انہوں نے حاصل کیا یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔کوئی امران کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔میرا مطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہو جاتے ہیں گویا دنیا کے پرستار ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ اور قابو پالیتا ہے دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے۔مال چونکہ تجارت سے ہی بڑھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيْمٍ (الصف:۱۱) سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے، جو دردناک عذاب سے نجات دیتی ہے۔پس میں بھی خدا تعالیٰ کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيْمٍ “۔(الحکم ۱۷ار جولائی ۱۹۰۲ء) ایک دوسری جگہ حضور فرماتے ہیں: میں پھر کہتا ہوں کہ ست نہ ہو۔اللہ تعالیٰ حصول دنیا سے منع نہیں کرتا بلکہ حَسَنَةُ الدُّنْیا کی دعا تعلیم فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان بے دست و پا ہو کر بیٹھ رہے بلکہ اس نے صاف فرمایا ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم: ٤٠) اس لئے مومن کو چاہیے کہ وہ جد و جہد سے کام کرے۔لیکن جس قدر مرتبہ مجھ سے ممکن ہے یہی