مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 239

مضامین ناصر — Page 14

تیسری علامت ۱۴ تیسری علامت منافقین کی یہ بتائی کہ وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ (توبة :۵۴) یعنی منافقین دین کی راہ میں مالی قربانی خوشی سے نہیں کرتے اور اپنی قربانی کے بعد ان کے دل میں بشاشت کی بجائے قبض پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر بجالا نا تو در کنار۔کہ اس نے ان کو یہ توفیق دی کہ وہ اس کی راہ میں مال خرچ کر کے ثواب حاصل کریں۔الٹا اللہ تعالیٰ پر احسان جتانے لگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا أَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فُسِقِيْنَ (التوبة: ۵۳) یعنی خوشی سے دو یا نا خوشی سے اللہ تعالیٰ ان مالی قربانیوں کو قبول نہ کرے گا۔اور یہ اس لئے کہ تم وہ لوگ ہو۔جنہوں نے اطاعت امام سے انکار کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ یہ پسند ہی نہیں کرتا کہ یہ لوگ اس کی مالی یا جانی خدمت کریں ( كَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ (التوبة:(۴۶) اور یہی وجہ ہے کہ منشائے الہی کے ماتحت ان میں سے اکثر مالی و جانی قربانی کرنے سے محروم رکھے جاتے ہیں۔مصری صاحب پر بھی یہ علامت چسپاں ہوتی ہے۔چنانچہ مجلس شوریٰ میں شامل ہونے والے احباب جانتے ہیں کہ جتنی دفعہ مجلس شوری میں وصیت کے متعلق یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ جائداد کے علاوہ آمد کا بھی دسواں حصہ وصیت میں دیا جائے۔مصری صاحب اس کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں اور اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں بھی اس کے خلاف رائے دیتے رہے ہیں۔چوتھی علامت چوتھی علامت منافقین کی یہ قرار دی کہ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقْتِ (سوره توبة: ۵۸) یعنی منافقین میں سے بعض کو یہ اعتراض کرتے بھی سنا جائے گا۔کہ مال کے بارہ میں دیانت سے کام نہیں لیا جا تا اول تو ان بندہ خدا سے کوئی پوچھے کہ تم خود تو چندوں و دیگر قربانیوں میں ست ہو۔تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ تم اس بارے میں اعتراض کرو۔جب خوشی سے چندہ دینے والوں کو