مضامین ناصر — Page 15
ܬܙ اطمینانِ قلب حاصل ہے تو تم کون ہو اعتراض کرنے والے۔اللہ تعالیٰ اعتراض کرنے کی وجہ بتا تا ہے کہ یہ خود اس مال پر نظر رکھتے ہیں۔چاہتے ہیں۔ہماری تنخواہیں اور گریڈ بڑھ جائیں۔ہماری لڑکیاں اعلیٰ عہدہ پر نوکر رکھ لی جائیں۔یا سلسلہ کی طرف سے کوئی ایسا کام نہ شروع کیا جائے جس سے ہماری تجارت کو نقصان پہنچے۔وغیرہ وغیرہ۔اگر ان کی یہ خواہشیں پوری نہ ہوں تو مخلصین پر اور امام جماعت پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو سلسلہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی جماعت سے اس قدرا خلاص ظاہر کرنے والے ہو۔اگر تم ان دعووں میں بچے ہوتے تو تمہیں چاہیے تھا کہ تم حَسْبُنَا اللہ کہ کر خاموش ہو جاتے اور قومی مال پر نظر بد نہ رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے منافق طبع افراد کو خشک دل کے نام سے موسوم فرماتے ہیں۔یعنی جن کے دل تقویٰ کے پانی سے سیراب نہ کئے گئے ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لئے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز نا تمام ہے۔“ ( الحکم ۳۱ / مارچ ۱۹۰۵ء) پس ہم میں سے بھی جو اس قسم کے اعتراض کرنے کا عادی ہو وہ منافقت کی ایک رگ اپنے اندر رکھتا ہے او منافقین کا تو یہ شیوہ ہی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی علیہا السلام فرماتے ہیں۔دو کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ خلیفہ مسیح نے جو تحریک جدید جاری کی ہے۔یہ اپنے لئے روپیہ جمع کرنے کے لئے کی ہے۔“ (الفضل ۳ جولائی ۱۹۳۷ء) پانچویں علامت پانچویں علامت جس سے ایک منافق شناخت کیا جا سکتا ہے۔یہ ہے کہ وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنَّ (التوبة: 1) منافقین اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رسول یا اس کا جانشین (جس کے زمانہ میں بھی یہ ہوں ) گویا ایک مجسم کان ہے۔لوگ اس تک رپورٹیں پہنچاتے ہیں۔اس نے اپنے جاسوس سی آئی ڈی چھوڑ رکھے ہیں۔جھوٹی سچی خبریں اس تک